.

یمن:تعز کے جبل الصیبارہ پرحکومتی فورسز کا کنٹرول

باغیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں فائر بندی کے اعلان کے باوجود کئی شہروں میں حوثی باغیوں اور مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ ادھر ایک دوسری پیش رفت میں تعز میں حکومتی فورسز نے جبلشدید لڑائی کے بعد جبل الصیبارہ کو باغیوں سے چھڑا لیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تعز کے جنوب مغرب میں الوازعیہ کے محاذ پر حکومت فورسز اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات آئی ہیں جہاں حکومتی فورسز نے جب الصیبارہ پر اپنا کنٹرول مضبوط کرلیا ہے۔ لڑائی میں باغیوں کو بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے اور وہ زخمی اور لاشیں چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں۔

تعز کے مغرب میں واقع پرانے ہوائی اڈے اور بریگیڈ کیمپ 35 پر حوثی باغیوں کی جانب سے راکٹ حملے بھی کیے گئے ہیں جب کہ شہر کے شمال مغربی محاذ پر بھی فریقین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

یمن کےمزاحمتی ذرائع کے مطابق تعز کے جنوب مشرق میں واقع حیفان اور کرش کے مقامات پر لڑائی میں شدت آگئی ہے۔ اطلاعات ہیں نے باغیوں نے حیفان اور کرش کے مقامات پر لڑائی کے لیے مزید نفری طلب کی ہے۔

ادھر مغربی مآرب گورنری میں حوثی باغیوں نے متعدد اہداف پر گولہ باری کی۔ مآرب میں فوج اور مزاحمت کاروں کے کیمپوں، صرواح، المشجح اور جبل ھیلان پر ہلکے اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں سے حملے کیے گئے۔

صنعاء کے شمال مشرق میں واقع نھم کے محاذ پر حکومتی فورسز اور مزاحمت کاروں نے باغیوں کےٹھکانوں پر بھاری توپخانے سے حملہ کیا۔ بنی حشیش ڈاریکٹوریٹ کے قریب ایک حملے میں باغیوں کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دسیوں باغی ہلاک اور زخمی ہوگئے۔

ادھر الضالع گورنری میں مزاحمتی فورسز کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے گذشتہ روز جنگ بندی کی 30 بار خلاف ورزی کی۔ باغیوں کی جانب سے شہری آبادی پر گولہ باری کی گئی۔ گولہ باری میں مریس اور شمالی قصبے العود کو نشانہ بنایا گیا۔