.

انتہا پسندوں کا گٹھ جوڑ،ایک اور اسرائیلی وزیر مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے وزیر ماحولیات نے انتہا پسند قوم پرست آوی گیڈور لائبرمین کی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ میں شمولیت کے خلاف احتجاج کے طور مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

نیتن یاہو نے آوی گیڈور لائبرمین کی جماعت کو اگلے روز مخلوط حکومت میں شامل کیا ہے اور انھیں وزارت دفاع کا قلم دان سونپا ہے۔اس کے بعد ایک سو بیس ارکان پر مشتمل اسرائیلی پارلیمان میں انھیں چھیاسٹھ ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔

وزیر ماحولیات آوی گابے نے جمعہ کو اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ '' حالیہ سیاسی اتھل پتھل اور وزیردفاع کی تبدیلی میرے خیال میں سنگین اقدامات ہیں اور ان کے ذریعے ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔اس سے انتہا پسندی کو فروغ ملے گا اور عوام کے درمیان کشیدگی پھیلے گی''۔

مسٹر گابے اسرائیلی مخلوط حکومت میں شامل واحد وسطی جماعت کولانو سے تعلق رکھتے ہیں۔اس جماعت کے پارلیمان میں دس ارکان ہیں۔آوی گابے کے نیتن یاہو کے ساتھ بحر متوسط میں اسرائیِل کے قدرتی گیس کے ذخائر کو ترقی دینے کے حکومتی منصوبے پر بھی اختلافات رہے ہیں۔اس منصوبے پر ایک کنسورشیم کام کرے گا اور اس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے مسابقت محدود ہوکر رہ جائے گی اور گیس کی قیمتیں بہت اوپر چلی جائیں گی۔

ان سے قبل اسرائیل کے وزیر دفاع موشے یعلون نے گذشتہ جمعہ کو لائبرمین کو کابینہ میں شامل کرنے کے خلاف اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ انھیں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر کوئی اعتماد نہیں رہا ہے۔

بنیامین نیتن یاہو نے اپنی مخلوط حکومت میں توسیع کرتے ہوئے گذشتہ بدھ کے روز انتہا پسند یہودی لیڈر آوی گیڈور لائبرمین کو اسرائیل کا وزیردفاع نامزد کیا تھا۔ان کے اس فیصلے کے بعد موشے یعلون کے لیے نیتن یاہو کی کابینہ میں مزید کام کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔مسٹر لائبرمین فلسطینیوں کے بارے میں سخت موقف کے حامل ہیں اور وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیاں برقرار رکھنے بلکہ ان میں توسیع کے حامی ہیں۔