.

اوباما کا کرائے کا مکان مسجد سے 325 میٹر کی نزدیکی پر !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر باراک اوباما اپنی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد آئندہ برس جنوری میں وہائٹ ہاؤس سے منتقل ہو کر جس مکان میں سکونت اختیار کریں گے وہ مغربی دنیا کی ایک سب سے بڑی مسجد اور اسلامی مرکز سے زیادہ دور نہیں۔ امریکا میں نئے صدر کا انتخاب رواں سال 8 نومبر کو ہوگا۔

اوباما، ان کی اہلیہ اور دونوں بیٹیاں جس گھر میں قیام کریں گے اس کا ماہانہ کرایہ 22 ہزار ڈالر ہے۔ 1928ء میں تعمیر ہونے والا یہ مکان اس کے حالیہ مالک جو لاک ہارٹ نے 2014 میں 52 لاکھ 95 ہزار ڈالر میں خریدا تھا۔ لاک ہارٹ سابق صدر بل کلنٹن کے دور میں وہائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری تھے۔ امریکی دارالحکومت کے علاقےKalorama میں 8200 مربع فٹ رقبے پر واقع یہ مکان 8 بیڈروم اور 9 بیت الخلاء پر مشتمل ہے۔

یہ پرتعیش گھر اسی علاقے میں واقع "مرکز اسلامی واشنگٹن" اور اس کی بڑی مسجد سے صرف 325 میٹر کے فاصلے پر ہے اور یہ فاصلہ "4 منٹوں میں طے کیا جاسکتا ہے"۔ امریکی نیوز ویب سائٹThe Daily Caller کے مطابق یہ گھرSidwell Friends School سے بھی گاڑی کے ذریعے 10 منٹ کی مسافت پر جہاں اوباما کی چھوٹی بیٹی ساشا زیرتعلیم ہے۔ جہاں تک امریکی صدر کی بڑی بیٹی مالیا کا تعلق ہے تو وہ فارغ التحصیل ہوچکی ہے اور آئندہ برس ہارورڈ یونی ورسٹی میں داخلے لینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

جب گھر کے مکینوں نے اسے خالی کیا

اسلامی مرکز کے ساتھ ساتھ اوباما کو واشنگٹن کے علاقے کیلوراما میں سلطنت عمان کے سفارت خانے کا پڑوس بھی ملے گا۔ مالک مکان جو لاک ہارٹ اور ان کی اہلیہ خود اس گھر میں رہائش پذیر تھے تاہم ملازمت کی وجہ سے وہ دونوں نیویارک منتقل ہوگئے۔ مکان کے خالی ہوجانے پر اوباما کو اسے کرائے پر لینے کی تجویز دی گئی جو انہوں نے زیادہ سوچ بچار کے بغیر قبول کرلی اور گزشتہ ہفتے انہوں نے اس مکان کے معاہدے پر دستخط بھی کردیے۔

جہاں تک "مرکز اسلامی واشنگٹن" کا تعلق ہے تو یہ ایک مسجد اور ایک ثقافتی مرکز پر مشتمل ہے۔ 1957 میں جب اس کا افتتاح ہوا تو یہ کرہ ارض کے نصف مغربی حصے میں مسلمانوں کی سب سے بڑی عبادت گاہ تھی۔ یہاں 600 کے قریب نمازی جمعہ کی نماز ادا کرتے ہیں۔ اس کی عمارت کو اطالوی ماہر ماریو روسے نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس کے افتتاح کے موقع پر سابق امریکی صدر ڈیوائٹ ڈی آئزن ہاور بھی موجود تھے۔ مسجد کے مینار سے بلند ہونے والی اذان کی پکار اس پورے علاقے میں سنائی دیتی ہے جس میں یہ مسجد واقع ہے۔