.

مینی سوٹا کے مکین پر داعش میں شمولیت کی سازش پر مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریاست منی سوٹا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے خلاف شام میں جانے اور وہاں داعش میں شمولیت کی کوشش کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے اور عدالت نے اس ملزم کا بیان قلم بند کیا ہے۔

جلد علی عمر نامی اس اکیس سالہ نوجوان نے عدالت کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے حکومت کا گھیرا تنگ ہونے پر بیرون ملک جانے کا پروگرام بنایا تھا لیکن اصل میں اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا اور اس سفر کے لیے جعلی پاسپورٹس حاصل کرنے کی تجویز بھی ایک غلطی تھی۔

جلد علی عمر سمیت تین افراد کے خلاف منی سوٹا میں امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں مختلف الزامات پر مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ان میں سب سے سنگین امریکا سے باہر اقدام قتل کی سازش کا الزام ہے ؛اور اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے تو پھر انھیں پوری زندگی جیل میں گزارنا ہوگی۔ان تینوں میں سے صرف علی عمر کا بیان ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ یہ تینوں افراد منی سوٹا میں آباد صومالی کمیونٹی کے ایک بڑے گروپ کا حصہ تھے۔وہ ایک دوسرے سے متاثر ہوئے تھے اور انھوں نے شام جانے کا فیصلہ کیا تھا۔اس گروپ میں شامل چھے اور افراد نے اس سازش میں شریک ہونے اور ایک دہشت گرد تنظیم کی حمایت کا اعتراف کیا ہے۔گروپ میں شامل دسواں شخص مفرور ہے اور اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ شام میں ہے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹرز نے ان افراد کی خفیہ طریقے سے ریکارڈ کی گفتگو بھی چلائی ہے۔اس میں وہ میکسیکو کے ذریعے شام جانے کے لیے جعلی پاسپورٹس حاصل کرنے اور بیرون ملک سفر کے بارے میں گفتگو کررہے تھے۔

علی عمر نے عدالت کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اور اس کے دوست قرآن مجید کی تفسیر اور ترجمے کے لیے باقاعدہ اسٹڈی گروپ منعقد کرتے تھے۔اس نے بتایا کہ ایک شخص کے شام جانے کے بعد گروپ نے وہاں کی سیاسی صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال شروع کردیا تھا لیکن وہ گروپ میں شامل کسی شخص کے بیرون ملک سفر کے منصوبے کے بارے میں آگاہ نہیں تھا۔