.

ٹرمپ کا نیا پلان.. "خواتین کو ہراساں کرنے والا کلنٹن "

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی ڈیموکریٹک حریف ہیلری کلنٹن کے خلاف نئی حکمت عملی پر اسکینڈلوں کی چھاپ لگ چکی ہے۔

اس سلسلے میں ٹرمپ کی جانب سے جو اسکینڈل اچھالے جارہے ہیں ان کا تعلق ہیلری سے نہیں بلکہ ان کے شوہر اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی زندگی سے ہے۔

ٹرمپ نے اس کیچڑ میں داخل ہونے کے سلسلے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہِیں کیا۔ امریکی چینل "فوکس" کی میزبان کے ساتھ اپنی آخری گفتگو میں ٹرمپ نے بار بار جنسی ہراسیت کے ان الزامات کو دہرایا جو بل کلنٹن کے صدر بننے سے پہلے اور مدت صدارت کے دوران ان پر لگائے گئے۔ تاہم ٹرمپ نے سابق صدر پر آبرو ریزی کے الزام کی طرف بھی اشارہ کیا جس نے سیاست اور میڈیا کے میدان میں ایک ہنگامہ کھڑا کردیا تھا اور اس کی بازگشت ابھی تک ختم نہیں ہوئی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے "انسٹاگرام" اکاؤنٹ پر ایک وڈیو کلپ پوسٹ کیا ہے جس میں آوارہ قسم کے ایک آدمی کی ہونٹوں کے درمیان سگریٹ دبائے ہوئے تصویر دکھائی گئی ہے اور ساتھ ہی بعض عورتوں کی آوازیں شامل ہیں جن کو اس شخص نے ہراساں کیا تھا۔ نسوانی آوازوں میں مونیکا لوینسکی کی آواز بھی شامل ہے۔

مبصرین اس بات کو باور کراتے ہیں کہ ہیلری کلنٹن اپنے شوہر سے متعلق اس رُسوا کن سیاق میں ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرنے پر قادر نہیں۔ اس لیے کہ وہ اس نوعیت کی سطحی باتوں تک نیچے نہیں آسکتیں جن میں حدود کا کوئی پاس نہیں رکھا جاتا اور اس لیے کہ یہ موضوع ان کے لیے ذاتی طور پر انتہائی تکلیف دہ بھی ہے۔

ہراسیت کے حوالے سے مشہور کلنٹن

جنسی ہراسیت کے الزامات سے متعلق سابق صدر بل کلنٹن ایک معروف تاریخ رکھتے ہیں۔

مشہور ترین قصوں میں سے ایک 1991 میں پیش آیا جب پاؤلا جونز نامی خاتون نے کلنٹن پر الزام عائد کیا کہ وہ جب آرکنساس ریاست کے گورنر تھے تو انہوں نے پاؤلا کو جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

1998 میں صدر بل کلنٹن نے پاؤلا جونز کی جانب سے فائل کی گئی Civil Complaint کو 8.5 لاکھ ڈالر ادا کر کے نمٹایا، تاہم انہوں نے اس وقت اپنے قصور کا اعتراف نہیں کیا تھا۔

1999 میں جوانیٹا بروڈرک نامی خاتون نے بل کلنٹن پر الزام لگایا کہ انہوں نے 1978 میں جوانیٹا کو آبروریزی کا نشانہ بنایا تھا جب وہ آرکنساس میں کلنٹن کی انتخابی مہم کے لیے بطور رضاکار کام کررہی تھیں۔ بل کلنٹن اور ان کی ٹیم نے اس وقت اس الزام کی تردید کردی تھی جب کہ بروڈرک ابھی تک اپنے موقف پر قائم ہیں۔

کیتھلین ویلی نامی خاتون نے بھی بل کلنٹن پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے 1999 میں وہائٹ ہاؤس میں ویلی کے ساتھ ملامست کی تھی۔ اس کے علاوہ مونیکا لیونسکی کے ساتھ بل کلنٹن کا تعلق جو کہ وہائٹ ہاؤس میں زیرتربیت تھیں۔ پہلے تو کلنٹن نے اس تعلق کی تردید کرتے ہوئے یہ مشہور جملہ ادا کیا تھا کہ "میں اس خاتون کو نہیں جانتا"۔ بعد ازاں اپنے معافی کے خطاب میں کلنٹن نے اس مونیکا کے ساتھ تعلق کا اعتراف کرلیا۔

یہ اور ان جیسے دیگر الزامات نے بل کلنٹن کے خلاف بہت سے مصنفین اور صحافیوں کے غصے کو بھڑکا دیا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جو اسی نوعیت کی سیاسی اور آزادانہ فکری روش کے حامل تھے وہ بھی کلنٹن کے خلاف صف آرا ہوگئے۔ ان میں ایک معروف انگریز صحافی کرسٹوفر ہیچنز نے کلنٹن کے بارے میں No One Left to Lie To کے عنوان سے ایک خصوصی کتاب تحریر کی۔ کتاب میں ہیچنز نے کلنٹن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں جھوٹا اور دھوکے باز قرار دیا اور چیلنج کیا کہ وہ کلنٹن کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کریں گے۔

گزرے برسوں کے دوران ان الزامات کی صدائیں دھیمی پڑ گئی تھیں تاہم ٹرمپ نے ہیلری کے حریف ہونے کے سبب ایک مرتبہ پھر سے ان اسکینڈلوں کا دروازہ کھول دیا۔

امریکی مصنف رابرٹ کوسٹا کا ڈونلڈ ٹرمپ کی اس نئی حکمت عملی کے بارے میں کہنا ہے کہ "ریپبلکن امیدوار کو فتح کی علامات افق پر نمودار ہوتی دکھائی دے رہی ہیں اور وہ اس تک پہنچنے کے لیے کچھ بھی کر گزریں گے۔ وہ بل کلنٹن کے بارے میں بند ہوجانے والے تمام معاملات کو دوبارہ سے کھولیں گے۔ وہ کچھ بھی کرنے سے خوف نہیں کھائیں گے۔ ٹرمپ وہ سب کچھ کریں گے جو کسی بھی سابق ریپبلکن نے اپنے حریفوں کے ساتھ نہیں کیا۔ وہ کلنٹن کی شخصیت کے اس پہلو کی تصویر پیش کر کے اپنے ہاتھ ضرور رنگیں گے"۔