.

ایرانی پولیس کے ہاتھوں افغان پناہ گزینوں کا قتل عام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران ایک جانب اپنے ہاں پناہ لینے والے افغان مہاجرین کو شام اور عراق کی جنگ میں جھونک کر انہیں جنگ کا ایندھن بنا رہا ہے اور دوسری جانب ایران کے اندر رہنے والے افغان پناہ گزینوں کے خلاف جنگی جرائم کا بھی مرتکب ہو رہا ہے۔ ایران میں افغان پناہ گزینوں کے ساتھ جنگی جرائم سے متعلق خبریں آئے روز ذرائع ابلاغ میں آتی ہیں۔

حال ہی میں سماجی کارکنوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج پوسٹ کی گئی ہے جس میں وسطی ایران کے ضلع کرمان میں ایرانی پولیس کو افغان مہاجرین کو لے جانے والے ایک ٹرک پر اندھا دھند فائرنگ کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس کارروائی میں ٹرک پر سوار 6 افغانی شہری ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے تھے۔

ایران کے مقامی اخبارات کے مطابق افغان پناہ گزینوں کے قتل عام کا یہ واقعہ سات مئی کو اس وقت پیش آیا جب کرمان میں ایک پولیس چیک پوسٹ سے گذرتے ہوئے پناہ گزینوں کے ٹرک کو رکنے کا شارہ کیا مگر ڈرائیور نے گاڑی نہ روکی۔ اس پر پولیس نے ٹرک پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کم سے کم چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

موقع پر موجود عینی شاہدین نے واقعے کی فوٹیج بنائی جسے انٹرنیٹ پر پوسٹ کردیا گیا۔ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ وسطی کرمان کے ’نوق اور انار قصبوں کے درمیان ایک شاہراہ عام پر چلنے والے ٹرک کو ایرانی پولیس فائرنگ کانشانہ بناتی ہے جس کے نتیجے میں ٹرک الٹ جاتا ہے۔

خیال رہے کہ ضلع کرمان پاکستان اور افغانستان کے سرحد کے قریب واقع ہے۔

یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا افغان پناہ گزینوں کو لے کر آنے والا ٹرک کہاں سے آیا تھا تاہم غالب امکان یہ ہے کہ ٹرک پر سوار افراد افغانستان سے ایران میں داخل ہوئے تھے۔ ایران میں افغان پناہ گزینوں سے ظالمانہ سلوک کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ ماضی میں بھی اس طرح کے بے شمار واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

افغانستان میں جاری خانہ جنگی اور بے روزگاری سے تنگ آ کر وہاں سے شہری ایران کا رخ کرتے ہیں مگر ایرانی حکام ان سے غیر انسانی سلوک کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ افغان پناہ گزینوں کو آزادانہ طور پر کام کاج اور ملازمت کا حق نہیں دیا جاتا اور نہ ہی ان کے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ البتہ شام میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے جواں بچوں کو شام کی جنگ میں جھونکا جاتا ہے۔ ایسے افراد جنہیں شام یا کسی دوسرے محاذ کےلیے بھرتی کیا جاتا ہے انہیں ماہانہ سات سو ڈالر کے ساتھ ساتھ دیگر مراعات بھی دی جاتی ہیں۔