.

جاپان: ATM سے دو گھنٹے میں 13 ملین ڈالرچوری

سائبر چوری کی واردات پرحکام حیران وپریشان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سائبر جرائم کی بڑھتی وارداتوں اور نت نئے طریقوں کے جرائم کے رواج پانے کے جلو میں حال ہی میں جاپان میں بنکوں کی ’اے ٹی ایم‘ مشینوں سے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی چوری نے حکام نے حیران وپریشان کررکھا ہے۔ جاپانی پولیس کا کہنا ہے کہ 15 مئی کو دو سےتین گھنٹے کے کم وقت میں عالمی سائبرمافیا نے 1400 اے ٹی ایم مشینوں سے 13 ملین ڈالر کے برابر رقم چوری کی جو ملکی تاریخ میں اے ٹی ایم سے چوری کا اب تک کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

جاپان میں سائبر سرقے کی اس حیرت انگیز اسٹوری کو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی کور کیا ہے۔ اخبار ’ڈیلی ٹیلیگراف‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جاپان میں دو گھنٹے کے کم وقت میں اتنی خطیر رقم کا چوری ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ سائبر جرائم میں ملوث مافیا حکومتوں کے وضع کردہ حفاظتی نظام کو ملیا میٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جاپان میں سائبرسرقے کی یہ واردات 15 مئی کو مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ سے آٹھ بجے کے درمیان کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں سائبر جرائم میں ملوث عالمی مافیا کے 100 عناصر نے حصہ لیا۔ انہوں نے جنوبی افریقا کے ایک بنک کی جانب سے جاری کردہ اے ٹی ایم کارڈز کا ڈیٹا چوری کرنے کے بعد اسے استعمال کیا اور دو گھنٹے کے دوران 1 ارب 40 کروڑ جاپانی ین لے اڑے۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم تیرہ ملین ڈالر کے قریب بنتی ہے۔

اے ٹی ایم مشینوں سے چوری کی یہ واردات نہ صرف ٹوکیو میں قائم بنکوں اور اے ٹی ایم مراکز میں ہوئی بلکہ ایک ہی وقت میں یہ کارروائی ملک کے دیگر 16 اضلاع بھی ہوئی جس میں 1600 اے ٹی ایم کارڈز کے ریکارڈ کو استعمال کیا گیا۔ جاپانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر نے جنوبی افریقا کے ’’اسٹینڈرڈ‘‘ بنک سسٹم کا ڈیٹا چوری کیا جسے بعد ازاں سرقہ کی بین الاقوامی واردادت کے لیے استعمال کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر نے ہر اے ٹی ایم مشین سے ایک وقت میں 900 ڈالر کے مساوی رقم نکالی۔ جاپان کے بینکنگ سسٹم میں ایک ہی وقت میں اس سے اے ٹی ایم سے اس سے زیادہ رقم نہیں نکلوائی جاسکی۔

حکام نے اے ٹی ایم اور بنکوں کے آس پاس لگے خفیہ کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کی ہے تاہم دو ہفتے گذر جانے کے باوجود کسی شخصت کی شناخت ہوسکی ہے اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں لائی جاسکی ہے۔ ٹوکیو نے اس سلسلے میں جنوبی افریقا کے اسٹینڈرڈ بنک اور انٹرپول سے بھی رابطہ کیا ہے اور انہوں نے بھی چوری کی واردات میں تحقیقات میں بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اخباری ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جاپان میں اے ٹی ایم مشینوں سے رقوم کی چوری میں ملوث عناصر مقامی نہیں بلکہ غیرملکی ہوسکتے ہیں۔ اس واردات کا پتا کارروائی کے دو روز بعد چلا ہے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ غیر ملکی جرائم پیشہ عناصر اتنے میں ملک سے فرار ہوچکے ہوں گے۔

جنوبی افریقا کےاسٹینڈرڈ بنک کے ترجمان نے بھی جاپان میں اپنے نیٹ ورک میں لوٹ مار کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے انتہائی پیچیدہ کارروائی کی گئی ہے۔ بنک کا کہنا ہے کہ چوری کی ورادات سے بنک کو 13 ملین امریکی ڈالر کے مساوی رقم کا نقصان ہوا ہے۔