.

یمن میں کوئی "حزب اللہ" پیدا نہیں ہونے دیں گے : راجح بادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی حکومت کے سرکاری ترجمان راجح بادی نے سعودی دارالحکومت ریاض میں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ساتھ خصوصی اور طویل گفتگو کی۔

بادی کا کہنا تھا کہ ملک میں اور بیرون ملک رہنے والے تمام یمنیوں کو امید تھی کہ کویت میں جاری مشاورت سے یمن میں جاری جنگ کے خاتمے اور حل کا کوئی راستہ نکل آئے گا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد کی جانب سے پانچ نکات کے اعلان کے بعد آئینی حکومت کی حیثیت سے ہم بھی کویت مشاورت کی کامیابی کے حوالے سے بہت پرامید تھے۔ تاہم ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک مذاکرات جاری رہنے کے بعد انکشاف ہوا کہ دوسری جانب سے یمن میں امن کو یقینی بنانے کے لیے اب تک کوئی تزویراتی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ حیلہ سازی اور پینترے بدلنے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور کویت مشاورت کو کامیاب بنانے کے سلسلے میں حوثی اور صالح ملیشیاؤں کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آرہا۔

مشاورت میں کوئی حقیقی پیش رفت نہیں

راجح بادی کے مطابق سرکاری وفد کویت سے نہیں نکلا۔ یمنی صدر کویت میں ایک فورم میں شریک تھے جس میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بھی موجود تھے۔ اسی دوران قطر کی جانب سے مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی کوششیں کی گئیں۔ حکومتی وفد نے تو حوثیوں کے وفد کی عدم سنجیدگی کے باعث مشاورت کو صرف معطل کیا تھا۔

بادی نے کہ حوثیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے امن کے لیے کوئی تزویراتی فیصلہ نہیں کیا ہے اور وہ ابھی تک غیرمسلح ہونے، شہروں سے مسلح ملیشیاؤں کے انخلاء اور قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے حیلوں کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

بادی نے واضح کیا کہ اگر ہمیں حقیقی امن کی تلاش ہے تو پھر اس تنازع کے آغاز کی وجہ بننے والے مرکزی اسباب کا حل ناگزیر ہے۔ بنیادی مسئلہ حوثیوں اور علی عبداللہ صالح کے پاس ہتھیاروں کا ہونا ہے۔ جنگ کے بنیادی سبب کے ابھی تک قائم رہنے کی صورت میں ہم سیاسی عمل کی جانب کس طرح سے جاسکتے ہیں۔

کویت میں حوثیوں کے وفد پر بین الاقوامی دباؤ کے حوالے سے بادی کا کہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2216 پر عمل درامد کے لیے حوثیوں پر بین الاقوامی دباؤ ابھی تک ناکافی ہے۔

حوثیوں اور دنیا کی کسی بھی دہشت گرد تنظیم میں کوئی فرق نہیں

راجح بادی کے مطابق عالمی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری قراردادوں پر عمل درامد کو یقینی بنانے کے لیے ہرممکن کوششیں کرے۔ اگر حوثیوں اور علی صالح کے انقلاب کو جائز قرار دیا جاتا ہے تو اس کا مطلب انارکی اور اسلحے کے زور پر انقلابوں کو جائز قرار دینا ہوگا۔

حوثیوں کی جماعت ایک مسلح جماعت ہے جس نے ریاست میں دہشت گردی کا بازار گرم کیا۔ یمن کے عوام اس میں اور دنیا کی کسی بھی دہشت گرد تنظیم میں کوئی فرق نہیں کرتے۔

بادی نے کہا کہ کویت بات چیت اور جنگ بندی کے دوران حوثیوں اور صالح کی ملیشیاؤں نے کئی محاذوں پر پیش قدمی کی کوششیں کیں تاہم ان کو پسپا کردیا گیا۔ آئندہ چند روز میں کویت مشاورت کے نتائج فیصلہ کن طور پر ظاہر ہوجائیں گے۔

کویت مشاورت کے لیے معین مدت کے حوالے سے بادی کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ موقف تھا اگر مذاکرات کے لیے معین مدت نہ ہو تو ان کی کامیابی کے مواقع کم ہوجاتے ہیں تاہم اس کے باوجود ہم امن کے خواہاں ہیں۔ یمنی صدر باور کراچکے ہیں کہ ہمارے کاندھوں پر 2.5 کروڑ یمنیوں کی ذمہ داری ہے لہذا حکومت کا وفد مشاورت سے دست بردار نہیں ہوگا۔ یمنی عوام کو جنگ اور حوثی ملیشیاؤں کی جانب سے قتل و غارت گری اور اذیتوں کا سامنا ہے۔ حوثی ملیشیاؤں کی جیلوں میں 10 ہزار سے زیادہ قیدی ہیں۔ اسی طرح یمن میں تمام ذرائع ابلاغ معطل ہوگئے ہیں جہاں 200 کے قریب مطبوعہ اخبارات اور نجی سیٹلائٹ چینلوں اور ریڈیو چینلوں کا گروپ موجود ہے۔ یمن میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ایک عالمی انسانی آفت ہے اور اس اذیت کے خاتمے کے لیے عالمی ضمیر کا حرکت میں آنا ناگزیر ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بادی نے واضح کیا کہ آئینی حکومت کی حیثیت سے ہم کمزور حالت میں نہیں ہیں۔ گزشتہ برس 26 مارچ کو فوجی آپریشن "عزم کی آندھی" کا آغاز ہوا تو حوثی عدن، الضالع، الجوف اور دیگر علاقوں میں موجود تھے اور صرف یہ بات کررہے تھے کہ انہیں یمن پر کس طرح حکومت کرنا ہے۔ آج تقریبا چودہ ماہ بعد یمنی اراضی کا بڑا رقبہ آزاد کرائے جانے کے بعد حوثیوں صنعاء کے سوا کہیں نہیں پائے جاتے۔

ہم جنگ کے خواہاں نہیں

صنعاء کو آزاد کرائے بغیر عسکری آپریشن کو روک دینے کے حوالے سے بادی کا کہنا تھا کہ ہم نے صنعاء کی جانب کارروائیاں عالمی برادری کی خواہش اور امن کے لیے ایک موقع فراہم کرنے کی غرض سے روکیں۔ ہم جنگ کے خواہاں نہیں اور بہنے والا خون کا ہر قطرہ ہمارے لیے رنج کا باعث ہے خواہ وہ حوثیوں کا ہی خون کیوں نہ ہو اس لیے کہ وہ بھی یمنی لہو ہے۔ یمن کے بقیہ شہروں کو تباہی سے بچانے کے لیے ہم نے امن کا موقع دیا اور ہم نے ہر محاذ پر جنگ بندی کی پاسداری کی ہے۔

بادے کے مطابق یمن کی آئینی حکومت نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے ہر مطالبے کو پورا کیا اور یہ باور کرایا کہ اگر ہم حقیقی اور مستقل امن چاہتے ہیں تو قرارداد 2216 کا بطور نقشہ راہ اور مربوط نظام کے نفاذ ناگزیر ہے۔

راجح بادی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم عالمی برادری سے واضح طور پر سُن چکے ہیں کہ یمن میں ایک دوسری "حزب اللہ" کے وجود کی کسی طور اجازت نہیں دی جائے گی۔ بالخصوص سمندی گزرگاہ کے ذریعے یمن کو کنٹرول کرنا اور مسلح ملیشاؤں کا وجود یمن، خطے اور دنیا بھر کے لیے خطرناک ہے۔

ملیشیاؤں کے ہاتھ میں اسلحے کا باقی رہنا ہرگز قبول نہیں

کویت میں حالیہ مشاورت کے دوران حوثیوں کی حیلہ سازی کے حوالے سے راجح بادی کہنا تھا کہ یقینا حوثی اپنے مسلح رہنے اور یمن کے سیاسی عمل میں داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ ناقابل قبول ہے۔ ہم اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے کہ حوثی یا دیگر ملیشیاؤں کے ہاتھ میں ہتھیار باقی رہیں۔ ہتھیاروں پر صرف ریاست کی اجارہ داری ہوتی ہے۔

بادی کا کہنا تھا کہ پہلے شہروں سے حوثیوں کا انخلاء، ریاستی اداروں کی واپسی اور ہتھیاروں کی حوالگی عمل میں آنا چاہیے۔ اس لیے کہ بحران کے مرکزی سبب جس کی وجہ سے جنگ چھڑی، اس سے قبل حکومت تشکیل دینے سے یمن کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہمارا مسئلہ حکومت کی تشکیل نہیں بلکہ حوثیوں کے ہتھیار ہیں۔ ہمیں اس بات پر کوئی اشکال نہیں کہ غیر مسلح ہوجانے کے بعد حوثی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح انتخابات میں شریک ہوں اور حکومت کا حصہ بنیں۔

یمن میں ایرانی موجودگی

اس سوال کے جواب میں کہ آیا مشاورت میں شریک حوثیوں کے وفد میں ایرانی موجودگی ہے یا نہیں۔ راجح بادی کا کہنا تھا کہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک یمن میں بطور سیکورٹی ماہرین اور مشیران ایرانیوں کا پایا جانا ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی اسلحہ جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ وہ ان ملیشیاؤں کی سپورٹ کے لیے یمن بھیجا جارہا ہے۔ میں یہ انکشاف بھی کردوں کہ یمنی بحریہ نے سوقطرہ جزیرے کے قریب 7 ایرانی جہازوں کو پکڑا۔ جہاز حکام کا دعوی ہے کہ وہ علاقائی پانی میں غیرقانونی طور پر شکار کررہے تھے اور ان پر 89 ایرانی ماہی گیر سوار تھے۔ یہ جہاز ابھی تک حراست میں ہیں اور ان میں سوار افراد کے ساتھ تحقیقات جاری ہیں۔ یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ مذکورہ جہاز شکار کی کشتیاں نہیں ہیں اور ان پر درجنوں ٹن مال لے جایا جاسکتا ہے۔

بادی کے مطابق حوثی ایران کے آلات کار میں سے ہیں۔ اگر یمن میں ایرانی سیکورٹی اور عسکری مشیران ہوسکتے ہیں تو پھر کویت میں حوثیوں کے وفد کے ہمراہ ایرانی سیاسی مشیران کا ہونا تو مقدم ہے۔

یمن کے شہر المکلا میں القاعدہ تنظیم کے خلاف یمنی فورسز اور عرب اتحاد کی بڑی کارروائی کے حوالے سے راجح بادی نے کہا کہ المکلا کی آزادی دنیا بھر کے لیے ایک پیغام ہے۔ یہ پیغام باور کراتا ہے کہ یمن کی آئینی حکومت اسلحہ رکھنے والی تمام انتہا پسند دہشت گرد تنظیموں کے خلاف برسرجنگ ہونے میں سنجیدہ ہے۔ المکلا سے ملنے والے دستاویزات سے حوثی اور صالح ملیشیاؤں کی القاعدہ تنظیم کے ساتھ مکمل اور تزویراتی کوآرڈی نیشن کی تصدیق ہوتی ہے۔ المکلا میں داخل ہونے کے بعد ہم ریپبلکن گارڈز اور سینٹرل سیکورٹی میں کام کرنے والے ایسے عناصر کو گرفتار کرنے میں بھی کامیاب رہے جنہوں نے شہر پر پورے سال القاعدہ کے کنٹرول کے دوران تنظیم کے ساتھ مکمل تعاون کا انکشاف کیا۔