.

نیلسن منڈیلا کے ترکے سے ڈرائیور اورسیکرٹری بھی حصہ دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی افریقا میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کی علامت آنجہانی نیلسن مینڈیلا کے انتقال کے بعد ان کی جائیداد ان کے ورثاء میں تقسیم کی گئی تو میراث پانے والوں میں منیڈیلا کے ڈرائیور، ان کی خاتون سیکرٹری اور متعدد تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق امن نوبل انعام یافتہ آنجہانی نیلسن مینڈیلا نے ترکے میں نوبل انعام کی 12 لاکھ یورو کی رقم چھوڑی تھی۔ اپنی وفات سے قبل انہوں نے وصیت کی تھی کہ ان کے ترکے سے ان کے ڈرائیور، خاتون سیکرٹری اور ان تعلیمی اداروں کو بھی حصہ دیا جائے جن میں وہ زیر تعلیم رہے ہیں۔

جوہانسبرگ میں میراث کی تقسیم کی علامتی تقریب میں منیڈیلا کے ساتھ 23 سال تک ڈرائیور رہنے والے مائیک مبونیا نے 50 ہزار رانڈ یعنی 3200 ڈالر وصول کیے۔ اتنی ہی رقوم مینڈیلا کی خاتون سیکرٹری زیلدا لاگرانگ کو بھی ادا کی گئی۔ اس کے علاوہ مینڈیلا کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے جنوبی افریقا کی فورٹ ھیر یونیورسٹی، کونو پرائمری اسکول اور الصفیح شہر میں قائم اورلانڈو ویسٹ اسکول کو بھی ترکے سے رقم ادا کی گئی۔

نیلسن مینڈیلا کے ڈرائیور نے 3200 ڈالر کا چیک وصول کرتے ہوئے دکھ اور خوشی کے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں لوگ بڑی بڑی جائیدادیں چھوڑ کر جاتے ہیں مگر ان کی جائیدادوں میں ان کے حقیقی ورثاء کے سوا کسی کا کچھ کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ نیلسن مینڈیلا کی وصیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ کتنی محبت کرتے تھے اور کتنے سخی تھی۔

نیلسن مینڈیلا کی کچھ جائیداد کا تنازع بھی چل رہا ہے۔ ان میں جنوبی صوبہ کاب میں واقع ایک مکان بھی شامل ہے جس کی ملکیت کا دعویٰ ان کے پہلی بیوی وینی مادیکیزیلا ۔ مینڈیلا نے کر رکھا ہے۔

خیال رہے کہ نیلسن مینڈیلا جنوبی افریقا میں نسل پرست نظام کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے 27 سال تک جیل میں قید رہے۔ رہائی کے بعد وہ ملک کے وزیراعظم بنے۔ سنہ 2013ء کو انہوں نے 95 سال کی عمر میں وفات پائی۔