.

متحارب یمنی فریقوں میں 6390 قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں جاری یمن امن مذاکرات میں قیدیوں اور زیرحراست افراد کے مسئلے سے متعلق ایک نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔مذاکرات میں شریک متحارب فریقوں کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد کو کل 6390 قیدیوں ،زیر حراست افراد یا اغوا ہونے والوں کی فہرستیں موصول ہوگئی ہیں اور اب ان میں سے ہر کیس کا انفرادی جائزہ لیا جائے گا۔

ان ذرائع نے بتایا ہے کہ یمنی حکومت کے وفد نے 2630 ناموں پر مشتمل ایک فہرست پیش کی ہے۔اس میں شامل سب سے نمایاں نام وزیردفاع میجر جنرل محمود الصبیح کا ہے۔انھیں حوثی باغیوں نے 25 مارچ 2015ء کو اغوا کر لیا تھا۔

حوثی باغیوں کی فہرست میں 3760 افراد کے نام شامل ہیں۔ان میں سب سے اہم معزول صدر علی عبداللہ صالح کے بیٹے بریگیڈئیر جنرل احمد علی عبداللہ صالح کا ہے۔دونوں وفود کے ذرائع نے جمعرات کو بتایا تھا کہ انھوں نے ماہ مقدس رمضان المبارک کے آغاز سے قبل قیدیوں کے تبادلے سے اتفاق کیا ہے۔

حوثی ملیشیا کے وفد کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا جبکہ ایک سرکاری ذریعے کا کہنا ہے کہ سمجھوتے میں تمام زیر حراست افراد کی رہائی کی بات کی گئی ہے اور ان کی تعداد چار ہزار سے زیادہ بنتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایلچی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے حوثی باغیوں کے وفد سے ملاقات میں ملیشیاؤں کے ان کے زیر قبضہ علاقوں سے انخلاء کے علاوہ ان کے ہتھیار ڈالنے کے میکانزم،سیاسی مذاکرات اور ریاستی اداروں کی بحالی کے ضمن میں تبادلہ خیال کیا ہے۔