ترکی عراق سے اپنے فوجی واپس بلائے : روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق میں موجود اپنے فوجیوں کو واپس بلائے۔روس کی ریا نیوز ایجنسی کے مطابق وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ''عراق میں (ترک) فوجیوں کو برقرار رکھنا بالکل ناقابل قبول مؤقف ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اصولی طور پر میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ ترک جو کچھ کررہے ہیں،اس جانب ہمارے مغربی اتحادیوں کو زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے''۔

درایں اثناء ترک فوج کے ایک ذریعے نے کہا ہے کہ ترک لڑاکا طیاروں نے حال ہی میں شمالی عراق میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ایک کیمپ کو بمباری میں نشانہ بنایا ہے اور اس کے نتیجے میں چودہ کرد باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترک فوج گذشتہ سال کے وسط میں جنگ بندی سمجھوتا ختم ہونے کے بعد سے شمالی عراق کے پہاڑی علاقے میں کرد باغیوں کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہی ہے۔کرد باغیوں نے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع عراق کے شمالی علاقے میں اپنے عسکری کیمپ قائم کررکھے ہیں اور وہ وہاں سے جنوب مشرقی علاقوں میں ترک سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

پی کے کے نے سنہ 1984ء سے ملک کی سب سے بڑی کرد اقلیت کے علاحدہ وطن کے قیام کے لیے مسلح بغاوت برپا کررکھی ہے۔تب سے اب تک اس جنگجو گروپ کی کارروائیوں اور ترک سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں کم سے کم پچاس ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔حالیہ برسوں کے دوران پی کے کے علاحدہ وطن کے قیام کے مطالبے سے پیچھے ہٹ چکی ہے اور اب وہ کردوں کو زیادہ ثقافتی حقوق اور خود مختاری دینے کے مطالبات کررہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں