جرمن پارلیمان کی قرارداد سے تعلقات متاثر ہوں گے: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے جرمنی کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی پارلیمان نے سلطنت عثمانیہ کی فوجوں کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو نسل کشی قراردیا تو اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات متاثر ہوں گے۔

صدر ایردوآن نے مغربی صوبے ازمیر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اگر جرمنی بھی اس کھیل میں شامل ہوجاتا ہے تو اس سے دونوں ملکوں کے درمیان مستقبل میں سیاسی ،اقتصادی ،تجارتی اور فوجی تعلقات متاثر ہوں گے''۔انھوں نے واضح کیا کہ ''میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ ان تمام تعلقات پر نظرثانی کی جائے گی''۔

جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں میں آیندہ جمعرات کو سلطنت عثمانیہ کی فوجوں کے ہاتھوں پہلی عالمی جنگ کے دوران میں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دینے سے متعلق قرارداد پر رائے شماری ہورہی ہے۔اس قرارداد میں اس قتل عام کے لیے لفظ ''جینوسائڈ''(نسل کشی) کا استعمال کیا گیا ہے اور اسی پر ترک صدر نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے قبل ازیں جرمن چانسلر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور انھیں قرارداد کے الفاظ سے متعلق اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان شاندار تعلقات کو سراہا ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ اگر جمعرات کو مذکورہ قرارداد منظور کی جاتی ہے تو ترکی بھی تعلقات کا ازسرنو جائزہ لے گا اور جوابی اقدامات پر غور کرے گا۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ''بین الاقوامی قانون کے تحت جرمن قرارداد کی پابندی ضروری نہیں ہے''۔واضح رہے کہ ترک عہدے دار ایک عرصے سے اپنے مغربی اتحادیوں پر یہ زور دیتے چلے آرہے ہیں کہ وہ آرمینیا میں ایک سو سال قبل پہلی عالمی جنگ کے دوران قتل عام کو نسل کشی قرار دینے سے گریز کریں۔

آرمینیا کا یہ مؤقف رہا ہے کہ پہلی عالمی جنگ کے زمانے میں ترک فوج کے ہاتھوں اس کے پندرہ لاکھ شہری مارے گئے تھے لیکن ترکی اس دعوے کو مسترد کرتا چلا آرہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران صرف تین سے پانچ لاکھ کے درمیان آرمینیائی باشندوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں اور اتنی ہی تعداد میں ترک بھی مارے گئے تھے۔

ترکی کا یہ موقف رہا ہے کہ لاتعداد آرمینیائی باشندے پہلی عالمی جنگ کے دوران روسی فوج کا ساتھ دینے کی وجہ سے مارے گئے تھے۔میدان جنگ کے علاوہ قحط سالی کی وجہ سے بھی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ترکی آرمینیا یا اس کے حامی ممالک کی جانب سے اس قتل عام کے لیے وضع کردہ نسل کشی کی اصطلاح کو مسترد کرتا چلا آرہا ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ آرمینیا کے جنگجوٶں کے ہاتھوں کرد اور ترک شہری بھی مارے گئے تھے۔آرمینیاؤں کی ان ہلاکتوں کے مسئلے کو اہل مغرب وقفے وقفے سے ترکی پر دباٶ ڈالنے کے لیے اچھالتے رہتے ہیں۔ترکی اور آرمینیا نے دوطرفہ اختلافات کے خاتمے کے لیے 2009ء میں ایک امن معاہدے پر دستخط کیے تھے اور 1915ء میں رونما ہوئے تشدد کے مبینہ واقعات کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ایک کمیشن کے قیام سے اتفاق کیا تھا۔امن معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوگئے تھے اور انھوں نے دوطرفہ تجارت کے لیے اپنی سرحدیں کھول دی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں