یمن میں عسکری کمیٹیوں کی تشکیل کا پلان تیار

عسکری کمیٹیوں کی تفصیلات ’العربیہ‘ پر نشر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کویت کی میزبانی میں یمن کے بحران کے حل کے سلسلے میں جاری مذاکرات میں حکومت اور باغیوں نے عسکری کمیٹیوں کی تشکیل سے اتفاق کیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عسکری کمیٹیوں کی تشکیل، ان کے اہداف اور طریقہ کار پرغور کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے کویت میں یمنی حکومت کے مندوبین سے اڑھائی گھنٹے طویل بات چیت کی۔

یمن کی سیکیورٹی کمیٹیوں سے متعلق العربیہ کو موصولہ تفصیلات نشر کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق صدر جمہوریہ کے فیصلے کے مطابق عارضی طور پر مرکزی عسکری کمیٹیوں اور ضلعی سطح پر ان کی ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں لائی جائے گی۔ مرکزی عسکری کمیٹی میں 19 سے 21 ارکان شامل ہیں جب کہ ذیلی کمیٹی 7 سے 9 ارکان پر مشتمل ہوگی۔

یمن کے تمام اہم اضلاع میں ان کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر کمیٹیاں تشکیل جائیں گی۔ دارالحکومت سیکرٹریٹ، صنعاء اور مضافاتی گورنریوں، صعدہ، حجہ، عمران، ذمار، الحدیدہ، المحویت، تعز، اب، الضالع، البیضاء، الجوف ، شبوۃ اور مآرب میں الگ فوجی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔

تمام کمیٹیاں اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے طے شدہ ٹائم فریم کے اندر اندر اپنے اہداف پورے کریں گی۔

تمام کمیٹیاں مکمل پیشہ وارانہ بنیادوں پر تشکیل دی جائیں گی۔ مرکزی اور ذیلی کمیٹیوں میں وزارت دفاع، وزارت داخلہ اور فوج کے مندوبین شامل ہیں۔ مرکزی کمیٹیوں کے فوجی ارکان بریگیڈئیر جنرل یا اس کے مساوی عہدے پر متمکن ہونے ضروری ہیں جب کہ ذیلی کمیٹیوں کے فوجی ارکان میں کرنل کے عہدے کے افسران کو شامل کیا جائے گا۔ کمیٹیوں کے ارکان کی نصف تعداد جنوبی یمن سے لی جائے گی۔

فوجی کمیٹیوں کی ذمہ داریاں اور اہداف حسب ذیل ہیں۔

حوثی اور ان کے حامی باغیوں کا فوجی کیمپوں سے انخلا اور انخلاء کے عمل کی مکمل نگرانی۔

مختلف وزارتوں کے صدر دفاتر اور حکومتی تنصیبات سے باغیوں کا انخلاء، بری، بحری اور فضائی داخلی راستوں سے باغیوں کی بے دخلی اور سیکیورٹی اور قومی املاک کی باغیوں سے واگزاری اور اس عمل می مکمل نگرانی۔

ہتھیار ڈال کر فوجی اور سرکاری تنصیبات خالی کرانے والوں کو ہرممکن تحفظ کی فراہمی۔ باغیوں سے اسلحہ کی وصولی کے ساتھ ساتھ بارودی سرنگوں کے نقشے بھی لیے جائیں گے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کہاں کہاں پر بارودی سرنگیں نصب کی گئی ہیں۔

تمام ریاستی اداروں، دارالحکومت اور اضلاع مقامی حکومتی مراکز پر حکومتی فورسز کا کنٹرول۔

باغیوں کی جانب سے بھاری اور درمیانے درجے کے تمام ہتھیار حکومت کے حوالے کرنا۔

باغیوں کے انخلاء پلان کے تحت دارالحکومت صنعاء کو حکومت کے سیکیورٹی کنٹرول میں دینے کے عمل میں مکمل نگرانی۔

لڑائی اور جنگ وجدل کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرنا۔

صدر جمہوریہ کی ہدایات کی روشنی میں اپنی حدود میں رہتے ہوئے ذمہ داریاں ادا کرنا جیسے امور ان کمیٹیوں کے فرائض میں شامل ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز ہونے والے مذاکرات میں اقوام متحدہ کے مندوب اور حکومتی نمائندوں میں انتظامیہ باڈیوں کی تشکیل اور سیاسی امور پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں