.

ترکی : جنوب مشرق میں بم دھماکا، 12 سکیورٹی اہلکار زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے جنوب مشرقی قصبے نصیبین میں ایک گھریلو ساختہ بم کے دھماکے میں سکیورٹی فورسز کے بارہ اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں کرد باغیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان گذشتہ سال جولائی میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے جھڑپیں جاری ہیں اور کرد باغی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر آئے دن اس طرح کے بم حملے کرتے رہتے ہیں ۔تشدد کے ان واقعات میں سیکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں۔کرد باغی استنبول اور انقرہ میں خودکش بم حملے بھی کرچکے ہیں۔

کرد باغیوں کے حملوں کے ردعمل میں ترک حکام نے کرد اکثریتی بعض جنوب مشرقی شہروں اور قصبوں میں کرفیو نافذ کررکھا ہے۔کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں 1984ء میں علاحدگی کے لیے مسلح تحریک کے آغاز کے بعد سے کم سے کم پچاس ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ترکی ،یورپی یونین اور امریکا نے پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے لیکن امریکا اور مغرب شام کے مسلح کرد گروپوں کی حمایت کرتے ہیں۔ترکی ان گروپوں کو پی کے کے کی شاخیں قرار دیتا ہے اور ان کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔وہ امریکا کی جانب سے شامی کردوں کی حمایت پر اپنی ناراضی کا اظہار کرچکا ہے۔