.

ترک صدر کی توہین،سابقہ ملکہ حسن کو14 ماہ قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی ایک عدالت نے سابق ملکہ حسن اور حکومت کی ناقدہ مروہ بویوک سراتش کو صدر کی توہین پر مبنی مواد انسٹا گرام پر دوبارہ پوسٹ کرنے کے الزام میں کل منگل کے روز چودہ ماہ قید کی سز کا حکم دیا ہے۔

غیرملکی خبر رساں ادراروں کی رپورٹس کے مطابق 27 سالہ مروہ بویوک سراتش سنہ 2006ء میں ملک کی ملکہ حسن منتخب ہوئی تھیں۔ سنہ 2014ء کو انہوں نے انسٹا گرام پرقومی ترانے کا کچھ حصہ پوسٹ کیا اور ساتھ ہی صدر رجب طیب ایردوآن کی شام میں توہین بھی کی تھی۔ ایردوآن اس وقت ملک کے وزیراعظم تھے۔ ایردوآن کی توہین کی پاداش میں مروہ کو عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

خبر رساں ایجنسی ’دوغان‘ کے مطابق عدالت نے پہلے مقدمہ میں مروہ بویوک کو اہم ریاستی شخصیت کی توہین کی پاداش میں جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا تاہم بعد ازاں اس سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔

جنوری 2015ء کو انہوں نے تفتیش کاروں کے سامنے اعتراف کیا کہ اس نے توہین آمیز مواد ایک ہفت روزہ جریدے میں بھی شائع کرایا تھا مگر اس کا مقصد صدر مملکت کی توہین ہرگز نہیں۔

صدر ایردوآن کے وکیل کا کہنا ہے کہ توہین آمیز نظم دوبارہ شائع کرنا آزادی اظہار رائے میں شامل نہیں بلکہ یہ آزادی اظہار رائے کی حدود سے تجاوز کرنا ہے۔ اس طرح صدر کی کھلے عام توہین کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

سنہ 2014ء کے بعد ریاستی شخصیات اور ایردوآن کی توہین کے الزامات کے تحت 2000 سے زاید عام شہریوں اور فن کاروں کو عدالتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔