.

امریکا نے ایرانی تیل کو " نہ بکنے والا " سودا بنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے اپنے نیوکلیئر پروگرام سے دست بردار ہونے کے پس منظر میں تہران اور بڑی طاقتوں کے درمیان "تاریخی" قرار دیے جانے والے معاہدے کے باوجود ایرانی تیل کے بحری جہازوں کی قسمت نہیں جاگی۔

معاہدے کے تحت تہران پر سے پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد، امریکی رکاوٹوں کی دیوار نے تیل کی آمدنی میں اضافے اور معیشت کے پروان چڑھنے کے حوالے سے ایران کی امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔

"5+1" گروپ کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں ان پرانی پابندیوں کو شامل نہیں کیا گیا جو واشنگٹن نے 1990 سے تہران پر عائد کی تھیں۔ ان کے تحت دہشت گردی کی سرپرست ریاست شمار کیے جانے کی وجہ سے بینکوں کے ساتھ اس کے لین دین کی کڑی نگرانی کی گئی۔ اس کے نتیجے میں پابندیوں کے اٹھائے جانے کے بعد منڈی میں ایرانی تیل کی واپسی پر چند گنی چنی کمپنیوں نے تہران کے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے چھوٹے بینکوں کا سہارا لیا۔

پابندیوں کے بعد پہلی ڈیل کے واسطے فرانسیسی کمپنی "ٹوٹل" نے ادائیگی کے لیے یورپ کی تین انتہائی چھوٹے بینکوں پر انحصار کیا۔ ان بینکوں کی امتیازی حیثیت امریکا کے ساتھ ان کا کمزور لین دین ہے۔

2006 میں بین الاقوامی پابندیوں کے آغاز سے قبل " ٹوٹل " کمپنی فرانس کے ایک سب سے بڑے بینک BNP Paribas کو ترجیج دیتی تھی۔ تاہم مذکورہ بینک تہران سے متعلق مالیاتی سرگرمی کا حصہ بننے سے خبردار ہوگیا۔ اس کی وجہ گزشتہ سال واشنگٹن کی جانب سے بینک پر 8.9 ارب ڈالر کا جرمانہ کیا تھا۔ اس کی وجہ تہران پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی تھی۔

امریکی پابندیوں کے تحت امریکی مالیاتی نظام کے ذریعے ڈالر کرنسی میں بینک ٹرانسفر اور کسی بھی ایسے فریق کے ساتھ معاہدہ کرنا ممنوع ہے جس پر واشنگٹن دہشت گردی کی سپورٹ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور طویل مار کے میزائل پروگرام رکھنے کا الزام عائد کرتا ہے۔

اگرچہ "نیوکلییئر معاہدے" نے توانائی کی عالمی کمپنیوں کو ایران کی طرف لوٹنے کا موقع فراہم کیا ہے تاہم تہران کے امریکی ڈالر میں لین دین پر پابندی کی وجہ سے اس کی کشادگی محدود ہی رہی ہے۔

تین چھوٹے بینک

امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" کے مطابق فرانسیسی کمپنی "ٹوٹل" نے جن تین چھوٹے بینکوں کا سہارا لیا ان میں جرمنی کا Europäisch-Iranische Handelsbank AG ، سوئٹزرلینڈ کا Banque de Commerce et de Placements اور ترکی کا Halk Bankası شامل ہیں۔ ان تینوں بینکوں کی امریکا میں کوئی قابل ذکر سرگرمی نہیں ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ان چھوٹے بینکوں کی خدمات حاصل کرنے کی لاگت زیادہ بڑی ہوتی ہے۔ یہ انتہائی محدود بینکنگ لین دین کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی کریڈٹ کی اہلیت بڑے بینکوں کے مقابلے میں کافی حد تک کم ہوتی ہے۔

جہاں تک تیل کی دیگر دو بہت بڑی کمپنیوں "روئل ڈچ شیل" اور "بی بی" کا تعلق ہے تو ان دونوں نے ابھی تک ایران کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کی ہے۔ اس لیے کہ یہ دونوں کمپنیاں جن بینکوں کے ساتھ کام کرتی ہیں وہ تہران سے دور رہنے میں ہی عافیت گردانتے ہیں۔

مبادلے کا کھیل

اخبار کے مطابق امریکی پابندیوں کو چکر دینے کا ایک دوسرا طریقہ ہے وہ جس کو دیگر یورپی کمپنیاں اپناتی ہیں۔ اس طریقے میں مبادلے (بارٹر) کے ذریعے ایران سے پیٹروکیمیکل مصنوعات خریدی جاتی ہیں۔

ان میں سے ایک یورپی کمپنی ایرانی تیل کی ادائیگی کے لیے رقم گاڑیوں کے فاضل پرزہ جات کی ایک کمپنی کو بھیجتی ہے جس کا صدر دفتر یورپی یونین میں ہے۔ یہ اپنے طور پر ایرانی جانب کو اپنے فاضل پرزہ جات مہیا کرتی ہے اور اس طرح خریدار ایرانی تیل کی کمپنی کو ان مصنوعات کی قیمت ادا کرتے ہیں۔

ایران نے اپنے مرشد اعلی علی خامنہ ای کی زبانی امریکا پر کمپنیوں کو "دہشت زدہ" کر کے ایران سے دور اور معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ خامنہ ای نے اپریل میں بتایا تھا کہ " عالمی طاقتوں کے ساتھ دستخط کیے گئے بین الاقوامی معاہدے کے نتیجے میں مالیاتی پابندیاں اٹھالی گئی ہیں تاہم امریکا ایران کو معاہدے سے مکمل طور پر مستفید ہونے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے"۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ " امریکا غیرملکی بینکوں کے ایران کے ساتھ اس لین دین کی مخالفت نہیں کرتا جو ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان طے پائے گئے معاہدے کے نکات کے مطابق ہو"۔

یاد رہے کہ نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کرنے والے بڑے ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں جنوری میں معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے بعد، نجی بینکوں اور اداروں کی ایران میں قانونی تجارتی سرگرمیاں فروغ دینے کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کی تھی۔