.

’جی سی سی‘ کا شاہ سلمان کے ویژن کی حمایت کا اعلان

شاہ سلمان کے ویژن پرعمل درآمد کے لیے مشترکہ ایکشن پلان پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل [جی سی سی] نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے پیش کردہ معاشی ترقی کے جامع منصوبے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے شاہ سلمان کے ویژن پر عمل درآمد کے لیے مشترکہ کمیٹی کے قیام سے بھی اتفاق کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق جی سی سی کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ خلیجی قیادت کی جانب سے شاہ سلمان کے ’ویژن‘ کو مکمل اور غیرمتزلزل حمایت حاصل ہے اور تمام خلیجی ممالک اس ویژن کی روشنی میں مشترکہ ایکشن پلان تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

الزیانی کا کہنا تھا کہ خلیجی تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس میں شاہ سلمان کے اقتصادی ترقی کے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے مشترکہ اقتصادی ترقی کے پروگرامات وضع کرنے سے اتفاق کیا گیا ہے۔

عبداللطیف الزیانی نے یہ بات جدہ میں ہونے والے خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی۔ مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب شام میں زمینی فوج اتارنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ایران خطے کے ممالک میں مداخلت کی سازشوں کا مسلسل مرتکب ہے اور دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتے ہوئے عرب خطے میں عدم استحکام کی سازشیں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس سعودی عرب اور ایران کے درمیان قربت پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

یمن سے متعلق بات کرتے ہوئے سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ کویت میں یمن کے بحران کے حل کے سلسلے میں جاری مذاکرات خلیجی ممالک کے وضع کردہ روڈ میپ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں جاری ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ لیبیا کی مخلوط قومی حکومت ہی ملک کی نمائندہ ہے تاہم عالمی سطح پر لیبیا کی قیادت میں قربت پیدا کرنے کی مساعی بھی جاری ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں قیام امن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے یہ اعلان کہ وہ عرب ممالک کے پروگرام کے مطابق امن بات چیت کے لیے تیار ہے پر کوئی بات کرنا قبل از وقت ہےکیونکہ دیکھنا یہ ہے کہ آیا سرائیل عرب ممالک کے وضع کردہ امن روڈ میپ کو کس سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز جدہ میں خلیج تعاون کونسل کا سربراہ اجلاس منعقد ہوا جس میں سلطنت آف اومان کے نائب وزیراعظم فہد بن محمود آل سعید،، امیر قطر الشخ تمیم بن حمد آل ثانی، بحرینی فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ اور دیگر ممالک کے قائدین نے شرکت کی۔ خلیجی مہمانوں کا سرکاری سطح پر استقبال کیا گیا اور شاہ سلمان نے ہوائی اڈے پر جا کر تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔

اس موقع پر شاہ سلمان کے مشیر اور گورنر مکہ شہزادہ خالد الفیصل، شہزادہ مشعل بن ماجد بن عبدالعزیز، خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل عبدالطیف الزیانی، سعودی عرب کے وزیر ثقافت واطلاعات ڈاکٹر عادل بن زید الطریفی، وزیر خزانہ ڈاکٹر ابراہیم بن عبدالعزیز العساف، وزیر تجارت و سرمایہ کاری ڈاکٹر ماجد بن عبداللہ القصبی، وزیر مملکت ڈاکٹر عصام بن سعد بن سعید اور جدہ گورنری کے سیکرٹری ڈاکٹر ھانی بن محمد ابو راس بھی موجود تھے۔

اجلاس میں یمن، شام اور عراق میں ایرانی مداخلت کی شدید مذمت کی گئی۔ اس کے علاوہ علاقائی مسائل اور ان کے حل کے طریقہ کار پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔