.

بھارت میں 3 طلاقوں کا نظام ختم کرنے کا مطالبہ ۔۔۔ جامعہ الازہر کا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی نیوز ویب سائٹس کے مطابق بھارت میں 50 ہزار سے زیادہ مسلمانوں نے ایک الکٹرونک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں "تین طلاقوں" کے نظام کو قرآن کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ الکٹرونک پٹیشن بھارت میں مسلم خواتین کی انسانی حقوق سے متعلق تحریک Bharatiya Muslim Mahila Andolan کی جانب سے پیش کی گئی۔

دوسری جانب مصر کی معروف دینی درس گاہ جامعہ الازہر میں اسلامک ریسرچ کمپلیکس کے رکن ڈاکٹر عبداللہ النجار نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "بھارت کے مسلمان جس چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ غیر شرعی ہے۔ طلاق ایک حکم اور سنت ہے جس کو اللہ تعالی نے انسانی فطرت کی مناسبت سے شریعت کا حصہ بنایا ہے۔ انسان کا دل محبت اور نفرت اور عشق و بغض کی کیفیات کے درمیان رنگ بدلتا رہتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "طلاق کے حکم میں حکمت یہ ہے کہ انسانی راحت، مسرت اور لوگوں کے درمیان مودت کو باقی رکھا جائے۔ اسلامی شریعت میں شادی کے عقد کو میثاق کا نام دیا گیا ہے اس سے باور ہوتا ہے کہ یہ مقدس ترین اور قریب ترین بندھن ہے۔ تاہم تنفر بھی ایک فطری امر ہے جس کے ساتھ دو انسانوں کا مل کر رہنا ممکن نہیں رہتا اور زندگی جہنم کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ یہاں پر اسلام اس مسئلے کا حل فراہم کرتا ہے اور طلاق کو اس واسطے حلال کیا گیا تاکہ اختلاف کی وجوہات ختم ہوجائیں اور تنازع پر قابو پایا جاسکے۔ لہذا بھارت کے مسلمان جو کچھ چاہ رہے ہیں اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ اللہ کی فطرت کے خلاف ہے جس پر لوگوں کو پیدا کیا گیا ہے"۔

النجار کے مطابق "اسلام میں تین مرتبہ طلاق کہے جانے کا کوئی معاملہ نہیں ہے تاہم آدمی اپنی بیوی کو یہ کہہ سکتا ہے کہ تم کو تین طلاقیں دیتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ بھارت کے مسلمانوں کا یہ ہی مقصد ہو۔