.

موغادیشو: ہوٹل پر حملے میں ارکان پارلیمنٹ سمیت 15 ہلاک

الشباب نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں کل بدھ کے روز ایک ہوٹل پر فائرنگ اور بارود سے بھری ایک کار کے ذریعے کیے گئے حملے کے نتیجے میں دو ارکان پارلیمنٹ سمیت کم سے کم پندرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

موغادیشو کے ایک مقامی پولیس افسر میجر ابراہیم حسن نے برطانوی خبررساں ایجنسی ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ دہشت گردوں نے موغادیشو کے ہوٹل کو اس وقت حملے کا نشانہ بنایا جب وہاں کئی ارکان پارلیمنٹ سمیت متعدد دیگر اہم شخصیات بھی ٹھہری ہوئی تھیں۔

پولیس افسر کے مطابق شدت پسند گروپ حرکۃ الشباب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ دہشت گردی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کی شناخت محمود محمد اور عبداللہ جماک کے ناموں سے کی گئی ہے۔ پولیس نے ریسکیو آپریشن میں کئی ارکان پارلیمان سمیت دوسرے شہریوں کو ہوٹل سے نکالا تاہم اس وقت تک ہلاکتوں کی تعداد 15 ہوگئی تھی۔ حملے میں 20 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

قبل ازیں موغادیشو پولیس کی جانب سے ہوٹل پرحملے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 بتائی گئی تھی۔ ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ ہوٹل میں فائرنگ کی آوازیں وقفے وقفے سے سنائی دی جاری ہیں۔

ادھر شدت پسند گروپ تحریک شباب کے ملٹری آپریشن کنٹرول روم کے ترجمان الشیخ عبدالعزیز ابو مصعب نے موغادیشو حملے پر دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم کے جنگجو بارود سے بھری ایک کار ہوٹل تک پہنچانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ ترجمان کے مطابق واقعے کی مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

موغادیشو کی پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ ہوٹل میں اب بھی متعدد جنگجو موجود ہیں۔ پولیس کے مطابق ہوٹل کے اندر حملہ آوروں کی موجودگی کا امکان ہے مگر اس کی تصدیق نہیں ہوسکتی۔

پولیس کے مطابق ہوٹل پرحملے میں راہ گیروں اور عام شہریوں سمیت 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ 12 افراد زخمی ہیں۔ ہوٹل سے کسی مشتبہ حملہ آور کو باہر نکلتے نہیں دیکھا گیا۔ اس لیے خدشہ ہے کہ وہ مزید شہریوں کو فائرنگ کانشانہ بنا سکتے ہیں۔ال