.

جب تک بغداد کوضرورت ہے، عراق سے نہیں جائیں گے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ جب تک عراق کو ہماری ضرورت ہے اس وقت تک ایران عراق سے واپس نہیں جائے گا۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق اپنے دورہ یورپ کے دوران سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ایران کسی پڑوسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ ہم عراقی حکومت کی مدد اور اس کےاستحکام کے لیے اس کے ساتھ تعاون کررہے ہیں جب تک بغداد کو ہماری ضرورت رہے گی ہم عراق میں موجود رہیں گی۔ عراق کو اس وقت دہشت گردی کی خلاف جاری جنگ میں ہماری اور دوسرے عالمی اتحادیوں کی مدد کی اشد ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جواد ظریف نے کہا کہ شام اور عراق میں ہمارے عسکری مشیر ان ملکوں کی دہشت گردوں اور مسلح گروپوں سے نمٹنے میں رہ نمائی کررہی ہیں۔

خیال رہے کہ عراق میں موجود رہنے سے متعلق ایرانی وزیرخارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراق کے شہر فلوجہ میں شیعہ ملیشیا حشد الشعبی کی جانب سے داعش کے خلاف جنگ کی آڑ میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری ہیں۔

تازہ اطلاعات سے پتا چلا ہے کہ حشد الشعبی نے فلوجہ کے 100 سے زاید عام شہریوں جن میں عمر رسیدہ افراد اور بچے بھی شامل ہیں کو اغواء کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

حشد الشعبی کے عناصر نے شمالی بغداد کے الراشدیہ شہر کے البوجعاطہ قصبے کے 150 خاندان زبرستی گھروں سےنکال باہر کیے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ شیعہ ملیشیا کے اس اقدام کا مقصد بغداد میں شیعہ آبادی کے تناسب کو تبدیل کرتے ہوئے اہل تشیع کی اکثریت ثابت کرنا ہے۔