.

جرمنی میں دہشت گردی کی سازش ناکام، تین داعشی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کے حکام نے دہشت گردی کی ایک خطرناک سازش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ پولیس نے مغربی جرمنی کے ڈوسلڈورف شہر میں ایک چھاپے کے دوران تین مشتبہ داعشی دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔ حراست میں لیے گئے تینوں شدت پسندوں کا تعلق شام سے ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے شدت پسندوں نے دوران تفتیش اعتراف کیا ہے کہ وہ ڈوسلڈورف شہر میں داعش کی خاطر خود کوش حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

جرمنی کے فیڈرل پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے جن تین شامی دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے وہ کل چار افراد پر مشمل ایک گروپ ہے جن کی شناخت 27 سالہ حمزہ، 25 سالہ ماجود بی،31 سالہ عبدالرحمان اے کے کے ناموں سے گئی ہے۔ ان تینوں کو نورتھ رائن، فیسٹفالیا برانڈبربرگ اور باڈن فورٹمبرگ سے گھروں میں تلاشی کی کارروائیوں کے دوران حراست میں لیا گیا۔

جرمنی کے ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے چار رکنی سیل میں شامل 25 سالہ صالح اے نے بتایا کہ اس کے دو دوسرے ساتھیوں نے 2014ء میں داعش میں شمولیت اختیار کی تھی جس کے بعد انہیں مغربی جرمنی یں خود کش حملوں کاٹاسک دیا گیاتھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حمزہ اور صالح نے شہرکی انتہائی مصروف شاہراہ پر خود کش دھماکے کرنے اور دوسرے ساتھیوں کےذریعے راہ گیروں پر اندھا دھند فائرنگ کرکے انہیں ہلاک کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔

پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے کہ آیا دہشت گردوں نے عملی دہشت گردی کا آغاز کردیا تھا یا نہیں۔