.

یمن کے سرکاری وفد نے آئینی حکومت کی بحالی کا ویژن پیش کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی میزبانی میں یمن میں امن وامان کے قیام کے حوالے سے جاری مذاکرات کے دوران یمنی حکومت کے وفد نے ملک میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے اپنا جامع پروگرام پیش کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعرات کو کویت میں ہونے والے اجلاس کے دوران یمن سرکاری وفد نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد سےملاقات کی۔ ملاقات میں فود نے یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے حوالے سے تیار کردہ ’ویژن ‘ پیش کیا اور اس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ویژن میں بتایا گیا ہے کہ یمن میں جاری جنگ کیسے ختم کی جاسکتی ہے اور ریاستی ادارے حکومت کی تحویل میں لانے کے ساتھ ساتھ ملک میں سیاسی عمل کا آغاز کیسے کیا جاسکتا ہے۔

قبل ازیں اقوم متحدہ کے مندوب اور یمنی حکومت کے وفد کے درمین ملک میں سیاسی اور سیکیورٹی حوالے سے مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جاتا رہا ہے۔

یمنی حکومت کے وفد میں شامل مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ ان یہ دعویٰ ہے کہ یو این مندوب کے سامنے پیش کردہ ’ویژن‘ ملک میں سیاسی عمل کی بحالی، باغیوں واپس قومی دھارے میں لانے، انہیں جنگ وجدل سے روکنے اور ملک میں امن وامان کے قیام کے لیے معاون ثابت ہوگا۔ وفد کا کہنا ہے کہ ان کا وضع کردہ سیاسی ویژن اقوام متحدہ کی قرارداد 2216 اور خلیجی ممالک کے امن فارمولے کی روشنی میں وضع کیا گیا ہے۔

حکومتی وفد نے باغیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک فسادات ، جنگ وجدل اور ریاستی اداروں پرقبضہ ختم کرتے ہوئے حکومتی رٹ کو تسلیم کریں۔ ہتھیار پھینک دیں اور قومی دھارے میں شامل ہوکر سیاسی عمل کا حصہ بنیں۔ حکومتی وفد کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت سیاسی فضاء سازگار بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ملک کو درپیش مشکلات کو کم کرنے اور بحران ختم کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹیں بھی ختم کی جائیں۔