.

خمینی کی جانب سے کینیڈی اور کارٹر کو منانے کا انکشاف !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن سے شائع ہونے والے عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق کچھ روز قبل منظرعام پر آنے والے امریکی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران میں ولایت فقیہ کے نظام کا بانی خمینی، گزشتہ صدی میں ساٹھ کی دہائی سے لے کر اپنے پیرس سے تہران پہنچنے اور 1979 میں انقلاب کے اعلان سے چند روز پہلے تک امریکی حکومت کے ساتھ رابطے میں تھا۔

امریکی سی آئی اے کی جانب سے جاری دستاویز سے واضح ہوتا ہے کہ خمینی نے نومبر 1963 میں ایران میں جیل سے رہائی پانے کے کچھ ماہ بعد، امریکا کے سابق صدر جان کینیڈی کے ساتھ خفیہ پیغامات کا تبادلہ کیا۔ ان پیغامات میں خمینی نے درخواست کی کہ "امریکی صدر اس کی لفظی نکتہ چینی کو غلط معنی میں نہ لیں کیوں کہ وہ ایران میں امریکی مفادات کی حفاظت کر رہا ہے"۔

خمینی کی 27ویں برسی سے چند روز قبل سامنے آنے والے دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی نظام کا بانی ملک میں ان سماجی اقتصادی اصلاحات پر طیش میں آنے کے بعد امریکی صدر سے رابطے کے لیے متحرک ہوا جو ایران میں سابق نظام حکومت نے کی تھیں۔ 1963 میں "سفید انقلاب" کے نام سے معروف ان اصلاحات کے ذریعے سابق نظام نے جاگیر داروں کی زمینوں کو کاشت کاروں میں تقسیم کردیا اور پہلی مرتبہ خواتین کے ووٹ کا حق تسلیم کیا گیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے فارسی چینل کی رپورٹ کے مطابق خمینی نے ان اصلاحات کو "اسلام کے لیے خطرہ" شمار کیا جب کہ "شہنشاہ ایران" کے مخالفین اس کو رائے عامہ کے لیے دھوکے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ بعد ازاں 1962 میں "نوروز" کے تہوار کے دن خمینی نے سوگ کا اعلان کر ڈالا۔ خمینی کا موقف تھا کہ "ظالم نظام حکومت کا مقصد عورت اور مرد کے حقوق برابر کر دینے کا فیصلہ کرنا ہے"۔

دستاویزات کے مطابق خمینی نے 19 جنوری 1979 کو یعنی ایرانی انقلاب سے چند ہفتے قبل ثالثیوں کے ذریعے امریکی صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ کے ساتھ بھی رابطہ کیا۔ خمینی نے اس وقت یہ عہد کیا تھا کہ وہ مغرب کو تیل کی فراہمی منقطع نہیں کرے گا، ایرانی انقلاب خطے کے دیگر ممالک تک نہیں پہنچایا جائے گا اور وہ امریکی حکومت کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کیے جائیں گے۔

مذکورہ امریکی دستاویزات کے منظرعام پر آنے کے بعد ایرانی ذمہ داران کی جانب سے ابتدائی طور پر شدید غم و غصے پر مبنی رد عمل سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں "میزان" نیوز ایجنسی کے مطابق قُم کے علمی مرکز کے رکن حسین ابراہیمی کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات کو جاری کرنے کا مقصد " یہ ثابت کرنے کی کوشش ہے کہ (ایرانی) انقلاب درحقیقت امریکی ہے"۔