.

انسداد دہشت گردی "انٹیلجنس کی جنگ" ہے: چین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی (ژنہُوا) کے مطابق چین اس امید کا اظہار کیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں فرانس کے ساتھ انٹیلجنس معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔ یہ بات دونوں ملکوں کے ذمہ داران کے درمیان بات چیت کے دوران سامنے آئی۔

اس موقع پر چینی افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف ایڈمرل سُن جیانگو نے فرانس کے دفاع اور قومی سلامتی کے سکریٹری جنرل لوئس گوئٹے کو باور کرایا کہ چین اور فرانس کے درمیان مثالی نوعیت کے فوجی تعلقات رہے ہیں۔

سرکاری ایجسنی کے مطابق سُن جیانگو نے سنگاپور میں سیکورٹی سیمینار کے ضمن میں گوئٹے کو آگاہ کیا کہ " گزشتہ سال فرانس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی وجہ سے چین گہری صورت میں متاثر ہوا"۔

سُون کا کہنا تھا کہ " میرے نزدیک دہشت گردی کے خلاف جنگ بنیادی طور پر انٹیلجنس کی جنگ ہے۔ چین دہشت گردی کے مسئلے میں فرانس کے ساتھ انٹیلجنس کے میدان میں تعاون کے قیام کی امید کرتا ہے"۔

ادھر لوئس گوئٹے نے اپنے جواب میں کہا کہ فرانس دہشت گردی سے متعلق امور میں انٹیلجنس تعاون کو مضبوط کرنے پر آمادہ ہے۔

پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد سے چین "دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ" کے سلسلے میں مغربی دنیا کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔