.

ترکی: پناہ گزین بچوں پرجنسی تشدد کے مرتکب کو108 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُرکی کی ایک مقامی عدالت نے شامی پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں صحت کے شعبے میں کام کرنے والے درندہ صفت ایک مقامی شخص کو کم سے کم 8 بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے جرم میں 108 سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔

ترکی کے ذرائع ابلاغ کے مطابق مجرم نے پناہ گزین بچوں کی غربت اور ان کی دیگر مشکلات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اُنہیں جنسی ہراسانی کے لیے بلیک میل کیا اور انہیں جنسی ہوسناکی پرآمادہ کرنے کے لیے ڈیڑھ سے پانچ ترک لیرے[نصف سے پونے دو ڈالر] کے مساوی رقم کے عوض انہیں جنسی عمل پر آمادہ کرنے کی مذموم کوشش کی جاتی رہی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’’دوگان‘‘ کے مطابق بچوں کی جنسی ہراسانی کا قبیح واقعہ شام اور ترکی کی سرحد پر قائم ’’نسیب‘‘پناہ گزین کیمپ میں پیش آیا۔ اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے والے بچوں کے والدین نے حکام کو اس کی شکایت کی۔ مقامی میڈیا اور سماجی کارکنوں کا خیال ہے کہ سزا پانے والے درندہ صفت ترک شخص نے کم سے کم 30 بچوں کو جنسی ہراسانی کے لیے بلیک میل کیا ہے مگران میں سے صرف آٹھ بچوں کے والدین نے شکایت درج کرائی جب کہ دوسرے لوگ بہ وجوہ خاموش ہیں۔

شامی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے سرگرم ایجنسی کا کہنا ہے کہ بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے میں ملوث شخص کو عبرت کا نشان بنانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ آئندہ کوئی شخص اس طرح کی درندگی کی جرات نہ کر سکے۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب ترکی میں کسی شخص کو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیس میں پکڑا گیا ہے، تاہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں متعدد مرتبہ انتباہ کر چکی ہیں کہ شامی پناہ گزین بچوں اور خواتین کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ہے۔

یاد رہے کہ ترکی میں مقیم 27 لاکھ شامی پناہ گزینوں میں 2 لاکھ 50 ہزار افراد کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ نسیب پناہ گزین کیمپ میں مقیم شامی پناہ گزینوں کی تعداد 11 ہزار بتائی جاتی ہے۔