.

ترکی: سرحدی پولیس اسٹیشن پر کاربم حملہ ،تین افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے شام کی سرحد کے نزدیک واقع جنوب مشرقی قصبے مدیات میں ایک پولیس اسٹیشن پر کاربم حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور کم سے کم تیس زخمی ہوگئے ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق بدھ کے روز بم دھماکے کے بعد متعدد ایمبولینس گاڑیاں جنوبی صوبے مردین میں واقع مدیات میں جائے وقوعہ کی جانب بھیجی گئی ہیں۔ترک وزیراعظم بن علی یدرم نے کرد باغیوں پر اس بم حملے کا الزام عاید کیا ہے۔

بعض ٹیلی ویژن چینلز پر دھماکے کے بعد کی فوٹیج نشر کی گئی ہے اور اس میں پولیس اسٹیشن سے بم دھماکے کے بعد سیاہ دھواں آسمان کی جانب بلند ہورہا ہے۔بم دھماکے سے تھانے کی عمارت کا بیرونی حصہ تباہ ہوگیا ہے۔

اس بم دھماکےسے ایک روز پہلے استنبول میں ترک پولیس کی ایک گاڑی کو صبح کے مصروف اوقات میں بم حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔اس حملے میں گیارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مردین میں ترک فورسز کی کرد باغیوں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور وہاں گذشتہ مہینوں کے دوران اس طرح کے متعدد حملے کیے جاچکے ہیں۔مئی میں مدیات میں کرد باغیوں کے مقامی رضاکاروں کے اسٹیشن پر کار بم حملے میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اپریل میں مردین میں ایک چوکی پر کاربم دھماکے میں ایک فوجی ہلاک اور چھے زخمی ہوگئے تھے۔

ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں کرد باغیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان گذشتہ سال جولائی میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے جھڑپیں جاری ہیں اور کرد باغی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر آئے دن اس طرح کے بم حملے کرتے رہتے ہیں ۔تشدد کے ان واقعات میں سیکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں۔کرد باغیوں کے علاوہ داعش کے جنگجو بھی استنبول اور انقرہ میں خودکش بم حملے کرچکے ہیں۔