.

لاکھوں مسلمانوں کو روزے اور نماز کی ممانعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین میں جہاں عموما کمیونسٹ پارٹی حکمراں ہوتی ہے، کئی برسوں سے مذہبی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ ہر سال مذہبی مواقع بالخصوص رمضان میں ان پابندیوں کی تجدید ہوجاتی ہے۔

سنکیانگ میں جو کہ مسلم اکثریت کا خود مختار علاقہ ہے، حکام نے رواں سال کے ماہ رمضان میں سرکاری سیکٹر کے ملازمین اور کم عمر طلبہ کو روزے رکھنے سے روک دیا ہے۔ مساجد میں داخلے اور نماز پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکام نے ریستورانوں اور قہوہ خانوں کو پابند کردیا ہے کہ وہ پورے ماہ حسب معمول کھلے رہیں اور کھانے پینے کی چیزیں فراہم کریں۔ سنکیانگ میں یغور مسلم اقلیت کے 1 کروڑ سے زیادہ افراد بستے ہیں۔

مذکورہ علاقے میں ماضی میں اویگور آبادی اور سیکورٹی فورسز کے درمیان باقاعدہ جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ دوسری جانب بیجنگ حکومت نے چین میں مختلف مقامات پر ہونے والے خونی حملوں کی ذمہ داری اویگور اقلیت کے کارکنان پر ڈال دی جو وسائل سے بھرپور اس علاقے کی خودمختاری کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

مساجد میں داخل ہونے اور نماز پر پابندی

انسانی حقوق کے گروپ اور تنظیمیں ان مذہبی اور ثقافتی پابندیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں جو وسطی ایشیا کی سرحد پر واقع اس وسیع علاقے میں اویگور اور دیگر مسلمان اقلیتوں پر مسلط ہیں۔ گزشتہ ہفتے متعدد مقامی سرکاری اداروں نے اپنی ویب سائٹوں پر رمضان کے دوران روزے کی ممانعت سے متعلق سرکلر جاری کیے۔

ادھر پیر کے روز ایک مقامی ذمہ دار نے مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "حکام کو سرکاری اداروں کے ملازمین، طلبہ اور کم عمر افراد کو رمضان کے دوران نماز کے لیے مساجد میں جانے سے روک دینا چاہیے"۔

ایک چینی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق شمالی شہر آلتائے میں ذمہ داران "رمضان کے دوران روزے سے روکنے کے لیے لوگوں کے ساتھ رابطے بڑھانے پر آمادہ ہوگئے"۔

اس کے مقابل جرمنی میں یغور کی عالمی کانگریس کے ترجمان دیلات راجیت نے مسلمانوں پر عائد پابندیوں کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "چین یہ سمجھتا ہے کہ یغور کا اسلام بیجنگ کے حکمرانوں کے لیے خطرہ ہے"۔

چین اگرچہ بارہا اس امر کی یقین دہانی کراتا ہے کہ اس کے شہریوں کو عقیدے کی آزادی حاصل ہے تاہم اس کے باوجود مذہبی اقلیتوں کی کتابوں کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔