.

فرانس کے خصوصی دستے داعش کے خلاف جنگ میں شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے شمالی شام میں خصوصی فورسز کے دستے عرب اور کرد جنگجوؤں پر مشتمل شامی ڈیمو کریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کی داعش کے خلاف جنگ میں فوجی رہ نمائی کررہے ہیں۔

فرانسیسی وزارت دفاع کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ ''منبج میں داعش کے خلاف لڑائی میں فرانس سمیت متعدد ممالک شامی فورسز کی حمایت کررہے ہیں اور یہ مشاورت پر مبنی حمایت ہے''۔

واضح رہے کہ فرانس نے اس سے پہلے صرف عراقی کردستان میں اسپیشل فورسز کے قریباً ڈیڑھ سو ارکان کی موجود کا اعتراف کیا تھا۔یہ فرانسیسی فوجی کرد فورسز البیش المرکہ کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف جنگ میں شریک ہیں اور موصل سے شمال میں واقع علاقوں کا دفاع کررہے ہیں۔

امریکا شامی ڈیموکریٹک فورسز کی پشت پناہی کررہا ہے۔اس اتحاد کے جنگجو منبج کے نواح میں پہنچ چکے ہیں اور وہ ترکی کی سرحد اور شام کے درمیان واقع اس شہر پر قبضہ کیا ہی چاہتے ہیں۔

فرانسیسی عہدے دار کا کہنا ہے کہ فرانسیسی اسپیشل فورسز داعش کے خلاف لڑائی میں براہ راست میں حصہ نہیں لیں گی بلکہ وہ صرف مقامی فورسز کی حربی حکمت عملی میں معاونت کررہی ہیں۔

فرانسیسی وزیر دفاع ژاں لی دریان نے گذشتہ جمعہ کو ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانسیسی فوجی منبج میں داعش مخالف کارروائیوں میں مدد دے رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''ہم ہتھیاروں کی فراہمی ،فضائی موجودگی اور مشاورت کے ذریعے مدد مہیا کررہے ہیں''۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ منبج میں داعش مخالف کارروائی میں تین ہزار مقامی عرب جنگجو شریک ہیں اور انھیں پانچ سو کرد جنگجوؤں کی مدد حاصل ہے۔