.

سعودی عرب :غیرملکی انجنئیروں کے لیے ٹیسٹ لازمی

جعلی ڈگریوں والے انجنیئروں کا راستہ روکنے کے لیے انتظامی اور سکیورٹی اقدامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی انجنیئرز کونسل (ایس سی ای)نے مملکت میں نئے بھرتی کیے جانے والے غیرملکی انجنیئروں کے لیے ٹیسٹ پاس کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔اس کے علاوہ انھیں انٹرویو بھی دینا ہوگا اور دونوں میں پاس ہونے کی صورت ہی میں وہ ملازمت کے اہل قرار پائیں گے۔

ایس سی ای کے سربراہ جمیل البجاوی نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ سعودی عرب میں ملازمت کے خواہاں غیرملکی انجنیئروں کو تین سالہ تجربے کا بھی حامل ہونا چاہیے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ حال ہی میں بارہ سو ناتجربے کار غیرملکی انجنیئروں کی بھرتی کے بعد کیا گیا ہے۔انھیں تو ملازمتیں دے دی گئی ہیں جبکہ ساڑھے چار سو تجربے کار سعودی انجنیئرز روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور انھیں ملازمتیں نہیں دی گئی ہیں۔

البجاوی نے بتایا ہے کہ ان کی کونسل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے سرکاری منصوبوں کا معیار بہتر بنانے کے لیے پیش کردہ سفارشات کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض انجنیئرنگ فرموں اور کمپنیوں نے ناتجربے کار غیرملکی انجنیئروں کو بھرتی کیا ہوا تھا۔اس سے کام کا معیار متاثر ہوا اور قومی معیشت اور منصوبوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیرملکیوں کی بھرتی کے نتیجے میں سعودی انجنیئرز ملازمتوں کے مواقع سے محروم ہورہے ہیں حالانکہ نئے فارغ التحصیل ہونے والے مقامی انجینئرز اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ انھیں غیرملکیوں پر ملازمتوں میں ترجیح دی جائے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ان کی تنظیم جعلی ڈگریوں کے حامل انجنیئروں کا راستہ روکنے کے لیے بھی متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر اقدامات کررہی ہے اور کسی غیرملکی انجنیئر کو اسی صورت میں اقامہ دیا جائے گا جب اس کی اسناد کی تصدیق ہوجائے گی۔اس کے علاوہ ہم ذاتی انٹرویوز بھی لیتے ہیں تاکہ ملازمت کے لیے اہل انجنیئروں کا انتخاب اور تقرر عمل میں لایا جا سکے۔