.

محمد علی کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

باکسنگ کی دنیا کے ہیرو محمد علی کے چاہنے والوں اور پرستاروں میں سے ہزاروں افراد نے جمعرات کے روز ان کے آبائی شہر لوئی ویل کا رخ کیا جہاں اُس عظیم شخصیت کی نماز جنازہ ادا کی گئی جو رنگ کے اندر اپنے حریفوں سے لڑتا رہا اور اس کے باہر امن کے لیے کوشاں رہا۔

نماز جنازہ کا انتظام شہر کے فریڈم ہال میں کیا گیا تھا جہاں سابق ہیوی ویٹ چیمپیئن نے 1961 میں ویلی بسمانوف کو شکست دی تھی۔

محمد علی کی نماز جنازہ میں مختلف ملکوں اور مسالک سے تعلق رکھنے والے تقریبا 14 ہزار افراد نے شرکت کی۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے محمد علی کو "قوم کا ہیرو" کا نام دیا۔

ساؤتھ کیلیفورنیا یونی ورسٹی کی مذہبی شخصیت شیرمون جیکسن کے مطابق " محمد علی کی وفات سے ہم دنیا میں اپنی یکجہتی کو اور زیادہ محسوس کررہے ہیں"۔ انہوں نے ساٹھ کی دہائی اور اس کے بعد شہری حقوق کی تحریک کے ذریعے سیاہ فام امریکیوں کے دفاع کے حوالے سے مرحوم ہیرو کی کوششوں کو سراہا۔ جیکسن کے مطابق "مضبوط قوت ارادی کا حامل اور زندگی سے پیار کرنے والا ایک بے مثال انسان دنیا سے رخصت ہوگیا"۔

واضح رہے کہ محمد علی نے ویتنام کی جنگ کے دوران امریکی فوج میں خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا تھا۔

محمد علی گزشتہ جمعے کے روز ایری زونا کے ایک ہسپتال میں 74 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ اس طرح موت نے بیسویں صدی کے نمایاں ترین باکسر کی زندگی کا خاتمہ کردیا۔

محمد علی کی نماز جنازہ زید شاکر نے پڑھائی جو ریاست کیلیفورنیا میں برکلے کالج کے شریک بانی ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن، سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور معروف مزاحیہ اداکار بیلی کرسٹل جمعے کے روز محمد علی کے تعزیتی اجتماع سے خطاب کریں گے۔

نماز جنازہ میں بنگلہ دیش سے آیا ہوا ایک شخص بھی شامل تھا۔ محمد علی نامی اس شخص نے بتایا کہ بیماری کے باوجود وہ عظیم باکسر کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے اپنے وطن سے آیا ہے۔ مذکورہ شخص نے محمد علی کے 40 سال قبل بنگلہ دیش کے دورے کے موقع پر لی گئی باکسنگ لیجنڈ کی تصاویر بھی دکھائیں۔

محمد علی ایک ایسے وقت میں باکسنگ کی دنیا کی چوٹی پر پہنچنے جب سیاہ فام کھلاڑیوں سے ایسی کارکردگی کی توقع نہیں تھی۔ ان کے احساس افتخار نے اُس وقت بھی سفید فام امریکا کو حیران کیے رکھا جب وہ اپنے پیدائشی نام کیسئس کلے کے نام سے کھیلا کرتے تھے اور پھر 1964 میں محمد علی نے اپنا نام تبدیل کر کے امریکی معاشرے کو ایک دوسرا دھچکا پہنچایا ۔