.

''حملہ آور کا کسی بڑی سازش سے تعلق کا اشارہ نہیں ملا''

فائرنگ کا واقعہ امریکا میں پیدا شدہ انتہا پسندی کا شاخسانہ ہے: صدر اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اورلینڈو کے نائٹ کلب میں فائرنگ کرنے والا انٹرنیٹ پر دستیاب انتہا پسندانہ معلومات سے متاثر ہوا تھا۔انھوں نے واقعے کو ''ملک میں پیدا شدہ انتہا پسندی'' کی مثال قراردیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی حکام ایک عرصے سے اس کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں۔

صدر اوباما سوموار کو اوول آفس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ یہ حملہ بھی گذشتہ سال کیلی فورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں پیش آئے فائرنگ کے واقعے ایسا ہی ہے۔البتہ ابھی ہم مکمل تفصیل نہیں جانتے ہیں۔

ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب پر حملے کی تحقیقات کرنے والے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ قاتل کو بیرون ملک سے ہدایات جاری نہیں کی جارہی تھیں لیکن وہ جزوی طور پر داعش گروپ سے متاثر ضرور تھا۔

صدر اوباما نے اس بات کو دُہراتے ہوئے کہا ہے کہ ''اس مرحلے پر ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے جس سے یہ پتا چلے کہ اس کو باہر سے ہدایات جاری کی جارہی تھیں''۔انھوں نے بتایا کہ قاتل نے آخری منٹ میں بظاہر داعش سے تعلق وبیعت کا اعلان کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ واقعے کی دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر تحقیقات کی جارہی ہے اور تفتیش کار انٹرنیٹ پر اس مواد کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جو شوٹر نے ممکنہ طور پر پڑھا ہوگا۔تفتیش کار ابھی تک حملہ آور کے محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں اور وہ تمام امکانات پر غور کررہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ داعش اور القاعدہ ایسی تنظیمیں ہم جنس پرست مرد وخواتین کو اپنے برے غلط نظریے اور ہم جنس پرستی کے بارے میں اپنے مذہبی معتقدات کی بنا پر بھی نشانہ بناتی رہتی ہیں۔اس ضمن میں یہ ایک متعلق حقیقت ہے کہ یہ حملہ ہم جنس پرستوں کے ایک نائٹ کلب پر کیا گیا ہے۔

صدر اوباما نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے ،ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری (وزیر) جیہ جانسن اور دوسرے حکام کی جانب سے بریفنگ کے بعد میڈیا سے یہ گفتگو کی ہے۔امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں اتوار کو علی الصباح ہم جنس پرستوں کے ایک نائٹ کلب میں مسلح شخص نے گھس کر فائرنگ کردی تھی جس سے پچاس افراد ہلاک اور تریپن زخمی ہوگئے تھے۔

امریکا کی جدید تاریخ میں فائرنگ کا یہ بدترین واقعہ ہے۔یہ حملہ ایک افغان نژاد امریکی شہری عمر ایس متین نے کیا تھا۔اس کو خصوصی فورسز کے دستوں نے موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت جاری نہیں کیا ہے۔