.

ہم جنس پرست امریکیوں کے افغانی نژاد قاتل کی تصاویر، ویڈیو

بیٹے کو ہم جنس پرستوں سے بے پناہ نفرت تھی: والد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں کل اتوار کے روزریاست فلوریڈا میں ہم جنس پرستوں کے ایک نائیٹ کلب میں قتل عام کے واقعے نے پورے ملک کو سوگ میں سے دوچار کیا ہے۔ دوسری جانب حملہ آور کے بارے میں میں بھی تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی مانیٹرنگ کرتے ہوئے اورلینڈو نائیٹ کلب میں حملہ کرنے والے افغان نژاد امریکی کے بارے میں اہم معلومات جمع کی ہیں۔ بلا شبہ اورلینڈو میں قتل عام کا واقعہ امریکی تاریخ کا بدترین قتل عام قرار دیا جائے گا مگر امریکی ٹی وی ’این بی سی‘ نے اسے دوسرا ’نائن الیون‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایک شخص کے ہاتھوں اتنی بڑی تعداد میں امریکیوں کے قتل عام کا اس سے قبل امریکی تاریخ میں کوئی واقعہ موجود نہیں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق Myspace نامی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹ پر نائیٹ کلب کے حملہ آور کی تصاویر موجود ہیں۔ 29 سالہ حملہ آور کی شناخت عمر متین کے نام سے کی گئی ہے۔

عمرمتین کے والد میر صدیق ایک افغان نژاد امریکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیٹے نے جو کچھ کیا ہے اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ میر صدیق کے مطابق بیٹے کو ہم جنسی پرستی سے سخت نفرت تھی اور اس نے کوئی ایک ماہ قبل میامی شہر میں دو ہم جنس پرستوں کو باہم بوس و کنار کرتے دیکھا تو وہ آگ بگولا ہوگیا تھا۔ ہمیں یہ تو معلوم تھا کہ اسے ہم جنس پرستی کا عمل سخت ناگوار ہے مگر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس نے اس پر کوئی انتہائی رد عمل ظاہر کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

حملہ آور چونکہ خود بھی پولیس کے ساتھ مقابلے میں ہلاک ہوچکا ہے تاہم اس کے والد کو بیٹے کی ہلاکت پر کوئی دکھ نہیں۔ میر صدیق نے بیٹے کے ہاتھوں گے کے قتل عام پر معافی مانگی ہے۔

ذرائع ابلاغ میں عمر ایس متین نامی افغان نژاد حملہ آورکے زیراستعمال اسلحہ بھی دکھایا گیا ہے۔ اس نے نائیٹ کلب میں داخل ہونے کے بعد یرغمالیوں کو AR-15 نامی رائفل اور ایک پستول سے اندھا دھند گولیاں برسائیں۔ اس کا اسلحہ اور ’وان‘ ماڈل کی کار اب پولیس کے قبضے میں ہیں۔

امریکی ٹی وی WESH2 نے پولیس اور حملہ آور کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

اولینڈو میں قائم اوریجنل میڈیکل سینٹر کے ایک ڈاکٹر ’مائیک چھتام‘ کا کہنا ہے کہ اسپتال میں 46 زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے بیشتر کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

اورلینڈو کے پولیس چیف John Mina نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ نائیٹ کلب حملے میں زخمیوں میں بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس چیف نے حملہ آور کی شناخت عمر میر صدیق متین کے نام سے کی ہے جبکہ فلوریڈا کے گورنر Rick Scott نے واقعے کے بعد اورلینڈو میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے مقتولین کی آخری رسومات میں شرکت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی درخواست کی ہے۔

خیال رہے کہ اسی شہر میں دو روز پیشتر ایک مبینہ ذہنی مریض کی فائرنگ سے ایک نوخیز گلوکارہ کرسیٹنا گریمی ہلاک ہوگئی تھیں۔ پولیس نے حملہ آور کو ذہنی مریض قرار دیا تھا۔