.

یمن :امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے دو جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی علاقے میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں القاعدہ کے دو مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔یمن میں گذشتہ دو روز میں القاعدہ پر یہ دوسرا امریکی ڈرون حملہ ہے۔

یمن کے سکیورٹی ذرائع نے سوموار کو بتایا ہے کہ امریکی ڈرون نے حبان میں ایک کار پر میزائل داغا تھا جس کے نتیجے میں القاعدہ کے دو جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں اور ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا ہے۔

اس سے پہلے ہفتے کے روز صوبے مآرب میں امریکی ڈرون کے ایک اور حملے میں القاعدہ کے دو مشتبہ ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔ اس میزائل حملے میں بھی القاعدہ کے جنگجوؤں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکا نے پہلے کبھی یہ اعتراف نہیں کیا کہ وہ یمن میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف میزائل حملے کررہا ہے۔اس نے 7 مئی کو پہلی مرتبہ یہ اعتراف کیا تھا کہ امریکی فوجیوں کی ایک محدود تعداد کو یمن کی سرکاری فورسز کے ساتھ ساحلی شہر المکلا کا القاعدہ سے کنٹرول واپس لینے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فوج نے گذشتہ اپریل میں المکلا کو لڑائی کے بعد القاعدہ کے جنگجوؤں سے خالی کرالیا تھا اور اس شہر سے پسپائی کے بعد القاعدہ روزانہ اوسطاً بیس لاکھ ڈالرز کی آمدن سے محروم ہوگئی تھی جو اس کو تیل کی اسمگلنگ اور بندرگاہ سے محصولات کی مد میں حاصل ہورہی تھی۔

واضح رہے کہ یمن میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے اپریل 2015ء میں سرکاری فورسز کی پسپائی کے بعد المکلا پر قبضہ کر لیا تھا۔ ستمبر2014ء میں حوثی شیعہ باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد القاعدہ کے جنگجو کھل کر سامنے آگئے تھے اور انھوں نے المکلا اور بعض دوسرے جنوبی اور جنوب مشرقی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا۔

گذشتہ ایک سال کے دوران المکلا اور دوسرے شہروں میں القاعدہ کے جنگجوؤں پر متعدد ڈرون اور فضائی حملے کیے گئے ہیں۔مارچ میں القاعدہ کے ایک کیمپ پر امریکی ڈرون حملے میں ستر سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔ان حملوں کے نتیجے ہی میں القاعدہ کے جنگجو یمنی شہروں سے پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

امریکا یمن میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی شاخ کو سب سے خطرناک جنگجو گروپ خیال کرتا ہے۔اس گروپ نے سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران فائدہ اٹھایا تھا اور ملک کے مشرقی اور جنوب مشرقی صوبوں میں اپنے قدم جما لیے تھے۔