.

امارات:اخوان المسلمون کیس میں ملزمان کو قید کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی فیڈرل سپریم کورٹ نے کالعدم اخوان المسلمون سے تعلق اور جماعت کے لیے غیرقانونی طورپر فنڈز جمع کرنے سمیت متعدد دیگر الزامات کےتحت 19 مقامی اور غیرملکی ملزمان کو تین سال قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ جبکہ عدالت نے بعض ملزمان کو باعزت بری کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فیڈرل سپریم کورٹ کی جانب سے ملک کے ریاستی نظام حکومت کے خلاف اخوان المسلمون تنظیم قائم کرنے، متعلقہ حکام سے اجازت لیے بغیر اس کے لیے فنڈز جمع کرنے اور دیگر سرگرمیوں ملوث 15 یمنی اور 4 مقامی شہریوں کے خلاف جاری مقدمات کو نمٹایا گیا۔ بعض ملزمان کو بری کردیا گیا جب کہ بعض کم زیادہ سے زیادہ تین سال قید اور ملک بدری کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت کے حکم پر ملزمان کےقبضے سے ملنے والی 3 ملین درہم اور دیگر آلات ضبط کرلیے گئے ہیں۔

عدالت نے ایک دوسرے کیس میں شدت پسند تنظیم ’’النصرہ فرنٹ‘‘ کے ساتھ تعلق کے الزام میں چھ ملزمان کو پانچ سال قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ ان میں ایک مقامی جب کہ متعدد غیرملکی شامل ہیں۔ عدالت نے ملزمان کے قبضے سے ملنےوالی رقم اور دیگر آلات بحق سرکار ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

ان کے علاوہ یورپ اور امریکا سے تعلق رکھنے والے چار ملزمان کو شدت پسندوں کی موجودگی کا علم ہونے کے باوجود ان کے بارے میں پولیس کو مطلع نہ کرنے کی پاداش میں قید اور جرمانوں کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ایک ملزم کو غیر آتشیں اسلحہ رکھنے کے جرم میں تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔