.

حوثیوں نے یمنی مفتی اعظم کا دفتر نشے کا اڈا بنا لیا

باغی جنگجو دار الافتاء کی لائبریری میں قات کی مجلس سجانے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے شورش زدہ صدر مقام صنعاء کے باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مفتی اعظم دیار یمن محمد بن اسماعيل العمرانی کا مرکزی دفتر گزشتہ ایک برس سے حوثی باغیوں کے زیر قبضہ ہے، جسے انہوں نے ان دنوں نشے کے اڈے میں تبدیل کر دیا ہے۔

قاضی العمرانی کے قریبی ذرائع نے بتایا ایک برس سے حوثی گروہ کے مسلح جنگجوؤں نے ان کی لائبریری اور دار الافتاء پر قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ دفتر صنعاء کے وسطی علاقے میں ھائل شاہراہ پر واقع ہے۔ مسلح باغیوں کے اس اقدام کی شکایت حوثی قیادت سے کی گئی اس کے باوجود جنگجو ایک عالم دین کے دفتر کا قبضہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ قاضی محمد العمرانی یمن کے سرکردہ عالم دین اور مفتی ہیں۔ انہوں نے اپنی ساری عمر درس وتدریس اور فتوے دینے میں صرف کی ہے۔

صنعاء سے شائع ہونے والے ایک غیر جانبدار ہفت روزہ 'الوسط' نے اپنی حالیہ اشاعت میں ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حوثیوں نے دار الافتاء کی ضخیم لائبریری کو نشے کے اڈے میں تبدیل کر دیا ہے جہاں پر باغی جنگجو 'قات' کی محفل سجاتے ہیں۔ قات، یمن میں پائی جانے والی بھنگ کی طرز کی ایک بوٹی ہے، جسے یمنی روایتی طور پر دن کے مخصوص اوقات میں اجتماعی محفل سجا کر کھاتے ہیں۔ اسے چبانے سے نشہ چڑھتا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ باغیوں کے اقدام کی اطلاع حوثیوں کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ صالح الصماد کو مفتی صاحب نے ایک خط کے ذریعے دی، جس کے بعد اول الذکر نے دارالافتاء کا دورہ کیا۔ انہوں نے جوابی خط میں مفتی صاحب سے وعدہ کیا تھا کہ ان کا دفتر اور لائبریری جلد واپس کر دی جائی گی، تاہم اس خبر کے اجراء اور اشاعت کے باوجود دالافتاء کو واگزار نہیں کرایا جا سکا۔

اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مطالعہ اسلامی کے محقق محمد سعید نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ باغی ملیشیا کی جانب سے یمنی مفتی کے دفتر پر قبضہ دراصل ان کے اخلاقی اور دینی زوال کی منہ بولتی تصویر ہے۔