.

دو فرانسیسی پولیس افسروں کا قاتل العروسی عبدالله کون تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں چاقو کے پے درپے وار کر کے دو پولیس افسروں کو قتل کرنے والا ایک سزا یافتہ جہادی تھا اور فرانسیسی حکام اس کی سرگرمیوں کے بارے میں ایک طویل عرصے سے آگاہ تھے۔

فرانسیسی روزنامے لی موندے نے ایک عدالتی ذریعے کے حوالے سے اپنی منگل کی اشاعت میں لکھا ہے کہ قاتل العروسی عبدالله کی عمر پچیس سال تھی۔وہ مانتیس لا جولی میں پیدا ہوا تھا اور غیر شادی شدہ فرانسیسی شہری تھا۔سکیورٹی ادارے اس کو قانون کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے جانتے تھے۔اس پر چوری ،چوری شدہ اشیاء کی خریداری اور تشدد کے الزامات میں مقدمے چلائے گئے تھے۔

العروسی عبدالله کو 2013 میں دہشت گردی کی کارروائی کی سازش اورافغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع پاکستان کے قبائلی علاقے میں جہادیوں کو بھرتی کرنے کے نیٹ ورک سے تعلق کے الزام میں قائم مقدمے میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس کے خلاف حال ہی میں شام جانے والے ایک شخص سے تعلق کے الزام میں بھی تحقیقات کی گئی تھی لیکن کئی ماہ کی تفتیش کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ وہ اس مشتبہ شخص سے رابطے میں تھا لیکن عدالتی پولیس نے اس کو خطرناک شخص قرار نہیں دیا تھا۔

پیرس کے پراسیکیوٹر نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ العروسی عبدالله کے پاس وی آئی پی شخصیات ،پولیس اور گلوکاروں کی ایک لسٹ ملی تھی۔انھیں وہ مبینہ طور نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

اس نے دونوں پولیس افسروں کو قتل کرنے کے واقعے کی فلم بھی بنائی تھی اور اس پندرہ منٹ دورانیے کی فلم کو اپنے فیس بُک اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا تھا لیکن اس اکاؤنٹ کو آج صبح معطل کردیا گیا تھا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ وہ اس فرانسیسی نیٹ ورک کا بھی حصہ تھا جو ملک سے شام میں جہادیوں کو بھیجنے میں ملوّث رہا تھا۔اس کے خلاف اس معاملے کی بھی تحقیقات کی گئی تھی۔وہ دہشت گردی کے علاوہ دوسری جرائم پیشہ سرگرمیوں میں بھی ملوّث تھا لیکن پولیس کو بظاہر اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔

پولیس نے میاں بیوی پولیس افسر کے اس قاتل کو بعد میں ہلاک کردیا ہے۔اس کے بارے میں ایک وکیل کا کہنا ہے کہ وہ کوئی ذہین وفطین شخص نہیں تھا۔قبل ازیں ذرائع نے بتایا تھا کہ اس نے داعش سے بیعت کررکھی تھی۔