.

عرب امن فارمولے سے کبھی اتفاق نہیں کیا: نیتن یاھو

عرب ممالک امن روڈ میپ میں تبدیلی لائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ انہوں نے اس بات سے کبھی اتفاق نہیں کیا کہ عرب ممالک کی جانب سے پیش کردہ امن روڈ میپ کو فلسطینیوں کے ساتھ بات چیت کی بحالی کے لیے کی بنیاد بنایا جائے گا۔

اسرائیلی جنرل ریڈیو کے مطابق نتین یاھو نے حکمراں جماعت "لیکوڈ" کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ عرب ممالک کی طرف سے پیش کردہ امن روڈ میپ میں کئی منفی پہلو موجود ہیں جس کی بناء پر اسے کلی طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ عرب امن روڈ میپ میں کون سے پہلو منفی اور ناقابل قبول ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس میں منفی پہلو اسرائیل کا سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقوں کو خالی کرنا، وادی گولان واپس کرنا اور فلسطینی پناہ گزینوں کو ان کے علاقوں میں دوبارہ آباد کرانا ہے۔

بنجمن نیتن یاھو نے کہا کہ عرب ممالک کو اسرائیل کی منشاء کے مطابق اپنے امن فارمولے میں جوہری تبدیلیاں لانی ہوں گی، تاہم نیتن یاھو کاکہنا تھا کہ عرب ممالک کے امن فارمولے کا مثبت پہلو یہ ہے کہ عرب ملکوں کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے اور سفارتی تعلقات کے قیام سے اتفاق کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سنہ2002ء میں بیروت میں منعقدہ عرب سربراہ کانفرنس کے دوران عرب ممالک نے مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیام امن اور مسئلہ فلسطین کےحل کے سلسلے میں ایک روڈ میپ جاری کیا تھا۔ اس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ سنہ 1967ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جائے۔ مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطینی مملکت کا دارالحکومت بنایا جائے اور اقوام متحدہ کی قرارداد 194 کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ حل کیا جائے۔

حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم نے ایک بیان میں کہا تھا کہ عرب ممالک کے امن فارمولے کی روشنی میں فلسطینیوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں تاہم ابھی اس بیان کی باز گشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے نئی قلا بازی کھاتے ہوئے عرب امن فارمولہ مسترد کردیا۔