.

فرانسیسی پولیس اہلکار اور خاتون کا قتل 'دہشت گردی' تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی پولیس کے ترجمان سٹیفن لی وول نے نشریاتی ادارے "RTL" کو منگل کی صبح بتایا کہ پیرس کے ایک پولیس اہلکار اور اس کی اہلیہ کا قتل "دہشت گرد حملہ" تھا۔

فرانس کی جانب سے کی جانے والی تفتیش سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی ہے کہ فرانس پولیس کے اہلکار کا قاتل دہشت گرد گروہ کا رکن تھا اور انہی الزامات پر ماضی میں سزا پا چکا ہے۔

انسداد دہشت گردی کے محکمہ استغاثہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ فرانسیسی پولیس اہلکار کے قتل کی مزید تفتیش کرے گا جبکہ منگل کو علی الصبح صدارتی محل میں اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاس میں فرانس کے صدر فرانسواں اولاند نے "اس گھناؤنے فعل کی شدید مذمت کی۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس افسوسناک واقعہ کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جائے گا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قاتل شخص نے کارروائی کرنے والی پولیس پارٹی سے ہونے والے مذکرات میں اپنی داعش سے وابستگی کا اعتراف کیا تھا۔

درایں اثنا انتہا پسند تنظیم داعش سے وابستہ نیوز ایجنسی 'اعماق' نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم داعش کے طرف سے باضابطہ طور پر اس بات کا اعلان نہیں کیا گیا کہ حملہ آور کا تعلق ان کی تنظیم سے ہے۔

فرانسیسی حکام کے مطابق پیر کی رات ایک اعلیٰ پولیس عہدیدار اور ایک خاتون جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے، کو فرانس میں چاقو کے وار سے قتل کر دیا گیا تھا۔پولیس نے جائے وقوع سے ایک تین سالہ لڑکے کو بچا لیا ہے۔

بیالیس سالہ پولیس کمانڈر کو پیرس سے 55 کلومیٹر مغرب میں مینوویلا شہر میں ان کے گھر کے باہر ہلاک کیا گیا اور بعد ازاں حملہ آور نے گھر میں گھس کر پولیس افسر کی ساتھی کو قتل کر دیا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان پیری ہنری برانت نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ "یہ بہت بڑا نقصان ہے"۔ انھوں نے مزید کہا کہ "اس پولیس افسر کو ایک شخص نے قتل کیا۔۔۔ (اور) ہمیں ایک خاتون کی نعش بھی ملی ہے۔ حملہ آور جرائم پیشہ شخص کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ شکر ہے ایک چھوٹے لڑکے کو بچا لیا گیا ہے۔ وہ گھر میں موجود تھا۔ اب وہ بالکل خیریت سے ہے"۔