.

صدر اوباما: ڈونلڈ ٹرمپ کی ''غیر محتاط گفتگو'' کی مذمت

ری پبلکن صدارتی امیدوارکی مسلمانوں سے متعلق گفتگو امریکی اقدار سے انحراف ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے ری پبلکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے مسلمانوں کے خلاف غیر محتاط اور غیر ذمے دارانہ بیانات پر آڑے ہاتھوں لیا ہے اور کہا ہے کہ ''ری پبلکن صدارتی امیدوار اور دوسرے لیڈر جو کچھ فرما رہے ہیں ،وہ اس امریکا کا عکاس نہیں ہے جو ہم چاہتے ہیں''۔

وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں کے بارے میں نئے بھاشن کے ایک روز بعد صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ مسلم امریکیوں سے ایک مختلف طریقے سے برتاؤ سے امریکا محفوظ نہیں ہوگا بلکہ اس سے ملک کم محفوظ ہوگا اور ایسے نعروں سے داعش کے پیروکاروں کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ مغرب مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرے ری پبلکن لیڈروں کی مسلمانوں کے بارے میں غیر محتاط گفتگو امریکی اقدار سے انحراف ہے،اس سے انتہا پسندی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچے گا۔

انھوں نے اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب پر حملے کے دو روز بعد نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس طرح کی غوغا آرائی اور غیر محتاط گفتگو ہمیں کہاں لے جائے گی۔ہمیں ری پبلکن پارٹی کے ممکنہ نامزد امیدوار کی جانب سے یہ تجاویز پیش کی جارہی ہیں کہ تمام مسلمانوں کے امریکا میں داخلے اور ان کی امیگریشن پر پابندی عاید کردی جائے۔ان کی زبان میں یہ کہنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ تمام مذہبی کمیونٹیوں سے تعلق رکھنے والے تشدد سے آلودہ ہیں''۔

صدر اوباما نے کہا کہ ان کا ملک مذہب کی آزادی کی بنیاد پر قائم ہوا تھا اور امریکا میں کوئی مذہبی امتحان (ٹیسٹ) نہیں ہیں۔اس طرح کی گفتگو سے مسلم امریکی یہ محسوس کریں گے کہ ان کی حکومت ان سے دستبردار ہورہی ہے اور انھیں تنہا چھوڑ رہی ہے۔

امریکی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں کے بارے میں تازہ ''ارشادات'' کے بعد اپنے قومی سلامتی کے مشیروں کا اجلاس بلایا ہے اور اس میں داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا ہے۔انھیں اورلینڈو کے نائٹ کلب میں فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات اب تک ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ایف بی آئی کے مطابق پچاس افراد کے قاتل مسلح شخص عمر متین نے داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کر رکھی تھی۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ''داعش عراق اور شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں سے محروم ہورہے ہیں اور اس گروپ میں شامل ہونے والے غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہورہی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''داعش عراق میں اپنے زیر قبضہ نصف علاقوں سے محروم ہوچکے ہیں اور شام میں بھی وہ پسپائی سے دوچار ہیں۔ہمارے اتحاد نے داعش کے خلاف چڑھائی جاری رکھی ہوئی ہے اور داعش اس وقت دفاعی پوزیشن میں ہیں''۔