.

اقوام متحدہ سے شامی بحران کے حل کے لیے کردار کا مطالبہ

سعودی عرب سمیت 59 ممالک کا یواین کے تین اعلیٰ عہدے داروں کے نام خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سمیت انسٹھ ممالک نے اقوام متحدہ کے تین اعلیٰ عہدے داروں کو ایک مشترکہ خط بھیجا ہے جس میں انھوں نے عالمی ادارے پر زوردیا ہے کہ وہ شامی تنازعے کے حل کے لیے کردار ادا کرے۔

اس خط پر اقوام متحدہ میں متعیّن سعودی عرب ،امریکا ،برطانیہ ،قطر اور ترکی سمیت نو ممالک کے سفیروں کے دستخط ہیں اور اس کی انسٹھ ممالک کے سفارتی مشنوں نے توثیق کی ہے۔اس میں انھوں نے شام میں انسانی بحران اور جنگ بندی سمجھوتے کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

خط میں شام کے متاثرہ علاقوں تک فوری طور پر مکمل اور بلا روک امدادی سامان پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دستخط کنندگان شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا کی امن کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔

چار صفحات کو محیط یہ خط اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ،جنرل اسمبلی کے صدر اور سلامتی کونسل کے صدر کو بھیجا گیا ہے۔اس میں شام میں غیر فرقہ وار سیاسی انتقال اقتدار پر ضرور دیا گیا ہے اور تمام جماعتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک سابقہ قرارداد کے مطابق تنازعے کے حل کے لیے اپنا کردار کریں۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس وقت قریبا چھیالیس لاکھ افراد شام میں ایسے علاقوں میں رہ رہے ہیں جہاں بڑی مشکل سے انسانی امداد کی رسائی ہوسکتی ہے اور قریبا چھے لاکھ ملک کے محاصرہ زدہ انیس علاقوں میں رہ رہے ہیں۔شام میں مارچ 2011ء سے جاری لڑائی میں اب تک دو لاکھ اسی ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ چالیس لاکھ سے زیادہ اندرون اور بیرون ملک در بدر ہیں۔