.

''روس ترکی سے بہتر تعلقات کا خواہاں ،مگر پہل انقرہ کرے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات بحال کرنا چاہتا ہے لیکن اس ضمن میں انقرہ پہل کرے اور گذشتہ سال روسی طیارے کو مار گرائے جانے سے پیدا ہونے والی شکررنجیاں دور کرے۔

یہ بات روسی حکومت ( کریملن) کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''ہم ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانا چاہتے ہیں اور ان کو اچھے دور اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کی سطح پر لے جانا چاہتے ہیں''۔

تاہم ترجمان نے کہا کہ ''روسی صدر ولادی میر پوتین یہ واضح کرچکے ہیں کہ جو کچھ رونما ہوا تھا،اس کے بعد انقرہ کی جانب سے ضروری اقدامات کے بغیر تعلقات کو معمول پر لانا ممکن نہیں ہے''۔

واضح رہے کہ روس ماضی میں اس بات پر اصرار کرچکا ہے کہ ترکی روس کے لڑاکا طیارے کو مار گرانے پر معافی مانگے اور اس کا ہرجانہ ادا کرے۔روسی حکومت کے ترجمان نے اسی جانب اشارہ کیا ہے۔

یادرہے کہ ترکی کے ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے نومبر 2015ء میں شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر روس کا ایک لڑاکا طیارہ مار گرایا تھا۔اس واقعے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سخت کشیدگی پائی جارہی ہے۔روسی صدر ولادی میر پوتین نے اپنے طیارے کی تباہی کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا تھا۔اس کے ردعمل میں ترکی کے خلاف اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں اور ترکی کے ساتھ تعلقات منقطع کر لیے تھے۔