.

جنرل قاسم سلیمانی فلوجہ میں شیعہ ملیشیا کے ہمراہ: تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے فلوجہ شہر میں جہاں سیکیورٹی فورسز اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ’داعش‘ کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے وہیں ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کےہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے جلوں میں بدنام زمانہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو بھی شیعہ ملیشیا کے ہمراہ دیکھا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلوجہ آپریشن کے دوران پہلے بھی یہ اطلاعات آئی تھیں کہ دہشت گرد ایرانی جنرل سلیمانی اس آپریشن میں بہ نفس نفیس شامل ہوچکا ہے مگر اس کی محاذ پر موجودگی کی تصدیق ان تصاویر سے ہوئی ہے جو حال ہی میں لیک ہونے کے بعد میڈیا تک پہنچی ہیں۔

فلوجہ کے محاذ پر ایران نواز شیعہ ملیشیا کے ہمراہ نہ صرف جنرل سلیمانی موجود ہیں بلکہ ایران کی بری فوج کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل محمد باکبور کو بھی ان کے ہمراہ دیکھا گیا ہے۔ ان دونوں کی تصاویر بدر ھادی العامری نامی ایک عسکری گروپ کے جنگجوؤں کے ہمراہ سامنے آئی ہیں۔ ان کے ہمراہ وفاقی پولیس کے کمانڈو یونٹ کے چیف حیدر یوسف المطوری المعروف ابو ضرغام بھی موجود ہیں۔

ایران کے ذرائع ابلاغ نے چند ایام قبل یہ خبر دی تھی کہ بری فوج کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل باکبور فلوجہ شہر کے الکرمہ کے علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔ ان کی آمد کا مقصد فلوجہ میں داعش کے خلاف جاری فوجی آپریشن کی مانیٹرنگ کرنا ہے۔

فاتح بننے کے لیے گروپوں میں مقابلہ

ادھر فلوجہ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ فوج اور اس کے ہمراہ لڑنے والے مختلف شیعہ عسکری گروپوں کے درمیان فلوجہ کی سرکاری عمارتوں پر قبضے کے لیے مقابلے کی کیفیت ہے، ہرگروپ کہ یہ کوشش ہے کہ وہ پہلے سرکاری املاک پر قبضہ کر کے خود کو فاتح قرار دے۔ چاہے اس دوران مقامی شہری آبادی کواس کی کتنی بھاری قیمت کیوں نہ چکانا پڑے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی فوج، انسداد دہشت گردی فورس،الانبار پولیس اور حشدالشعبی ملیشیا کے درمیان فلوجہ میں سرکاری عمارتوں پرقبضے کے لیے ایک مقابلہ جاری ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی خبریں بھی بدستور آرہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اندرون اور بیرون ملک سے سخت تنقید کے باوجود ایران نواز حشد الشعبی ملیشیا فلوجہ میں عام شہریوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہے۔