.

حوثیوں نے یمن میں جعلی کرنسی نوٹوں کی بھرمار کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مرکزی بنک کے ایک ذمہ دار ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ مارکیٹ میں ایک ہزار اور پانچ سو ریال مالیت کے جعلی کرنسی نوٹوں کی بھر مار ہے اور جعلی کرنسی مبینہ طور پر حوثی باغیوں کی جانب سے مارکیٹ میں پھیلائی گئی ہے۔

سعودی اخبار’الوطن‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یمن کے مرکزی بنک نے کرنسی کی جعل سازی کے واقعات کا اس وقت پتا چلایا جب جعلی کرنسی نوٹوں کا بنک کے مختلف کھاتوں کے ذریعے لین دین سامنے آیا ہے تاہم انتظامیہ نے فوری طورپر جعل سازی کی کارروائی سے متعلق مطلع کردیا۔

یمن میں سرگرم تجارتی فرموں کی جانب سے جعلی کرنسی نوٹوں کے ساتھ کسی قسم کے تعلق کی سختی سے تردید کی ہے۔ تجارتی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی جعل سازی کا شکار رہی ہیں۔ تجارتی لین دین کےدوران ان کے ساتھ بھی جعلی کرنسی نوٹوں کے ذریعے فراڈ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں جعلی کرنسی نوٹ پھیلانے کے مکروہ دہندے کے پس پردہ حوثی باغیوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے جو یمن کو اپنے ہاتھ سے نکلتے ہوئے دیکھ کر اسے مزید تباہ کرنا چاہتے ہیں۔۔

حوثی باغیوں پربغاوت اور ریاستی اداروں پرقبضے کے دوران بڑے پیمانے پر لوٹ مار کا الزام بھی عاید کیا جاتا رہاہے۔ کچھ عرصہ قبل یہ انکشاف بھی ہوا تھا کہ ایران کی جانب سے امریکی کرنسی ڈالر کی وافر مقدار جعلی طریقے سے چھاپ کر یمن پہنچائی گئی ہے تاکہ باغیوں کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دیا جاسکے۔