.

حلب میں ایران نواز ملیشیا کے 30 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے جنگ زدہ شہر حلب سے اطلاعات ملی ہیں کہ اپوزیشن فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ایران نواز شیعہ ملیشیا کے 30 جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق شامی اپوزیشن فورسز کی نمائندہ تنظیم جیش الفتح کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی شام کے شہر حلب کے جنوبی علاقوں میں مختلف کارروائیوں کے دوران ایرانی ملیشیا کے کم سے کم تیس جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

اپوزیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شامی فوج اور اس کی معاون ملیشیا نے جنوبی حلب میں خلصہ قصبےکی جانب سے پیش قدمی کی کوشش کی تھی مگر جوابی کارروائی کے دوران کم سے کم تیس جنگجو مارے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسدی فوج اور ان کی معاون ملیشیا 'خلصہ' قصبے کو اپوزیشن کے قبضے سے چھڑانے کے لیے بار بار حملے کررہی ہے مگر اسے اس میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔

خلصہ قصبے کے مختلف اطراف میں جیش الفتح میں شامل گروپوں اور شام کی سرکاری فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، جن میں شامی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مرنے والے جنگجوؤں میں لبنانی حزب اللہ کے جنگجو بھی شامل ہیں جب کہ حزب اللہ کے متعدد شدت پسندوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

قبل ازیں حلب کے جنوبی محاذ پر خان طومان کے مقام پر بھی خون ریز جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ جیش الفتح کا کہنا تھا کہ اس نے شامی فوج اور اس کی مدد گار ملیشیا کا حملہ پسپا کردیا ہے۔ اپوزیشن فورسز کی جانب سے ایرانی ملیشیا کے گرفتار ایجنٹوں کی تصاویر بھی پوسٹ کی تھیں جو مبینہ طور پر شامی فوج کی حمایت میں لڑتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔