.

یمن: تعز میں متحارب فریقوں میں قیدیوں کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں متحارب فریقوں نے تیسرے بڑے شہر تعز میں مقامی قبائل کی ثالثی کے نتیجے میں قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے۔

ایک قبائلی سردار اور اعلیٰ مذاکرات کار عبداللطیف المرادی نے بتایا ہے کہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز نے 118 قیدیوں کو رہا کیا ہے جبکہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے اپنے زیر حراست 76 افراد کو چھوڑا ہے۔ تعز شہر پر سرکاری فورسز کا کنٹرول ہے جبکہ نواحی علاقوں پر حوثی ملیشیا نے قبضہ کررکھا ہے اور اس نے گذشتہ کئی ماہ سے شہر کا بھی محاصرہ کررکھا ہے۔

تعز میں موجود سرکاری حکام نے قیدیوں کے اس تبادلے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک مقامی سطح کا اقدام ہے اور مقامی قبائلی زعماء کی کوششوں کے نتیجے میں روبہ عمل ہوا ہے۔اس کا کویت میں جاری امن مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کویت میں گذشتہ نو ہفتے سے یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا کے وفود کے درمیان اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد کی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں لیکن ان میں اب تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔حتیٰ کہ طرفین قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر بھی کوئی فیصلہ نہیں کرسکے ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں حوثی ملیشیا نے 187 قیدیوں کو رہا کیا تھا جبکہ سعودی عرب نے اپنے پاس موجود 52 یمنی بچوں کو چھوڑا تھا لیکن رہا کیے گئے قیدیوں کی یہ تعداد اقوام متحدہ کے ثالث کاروں کی جانب سے رمضان المبارک کے آغاز سے قبل رہا کیے جانے والے قیدیوں سے کہیں کم تھی۔انھوں نے ماہ مقدس کے آغاز سے قبل طرفین کے زیر حراست تمام افراد میں سے نصف کی رہائی کے اعلانات کیے تھے اور متحارب فریقوں کو بھی اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

کویت امن مذاکرات کے تعز میں سرکاری فوج اور حوثی ملیشیا کے درمیان جاری لڑائی پر بھی کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں۔یمن کے دوسرے علاقوں میں 11 اپریل سے جنگ بندی ہے مگر تعز میں لڑائی جاری ہے۔

شہر کے مکینوں نے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز قیدیوں کے تبادلے سے چند گھنٹے قبل ہی حوثی باغیوں نے متعدد رہائشی علاقوں پر راکٹ برسائے ہیں۔تعز سے جنوبی شہر عدن کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ پرو اقع قصبے کرش میں بھی سرکاری فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔