.

الکٹرونک جرائم کے بارے میں 10 حقائق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بلاشبہ سائبر سیکورٹی بالخصوص الکٹرونک حملوں اور جرائم میں مسلسل اضافے کے بعد، آج کے دور میں تیز ترین ترقی کرنے والے شعبوں میں سے ایک ہے۔ زیادہ دن نہیں گزرتے کہ صارفین کا ڈیٹا افشا ہو جانے یا کسی جگہ سے الکٹرونک جعل سازی اور دھوکہ دہی کی خبر موصول ہو جاتی ہے۔ اس امر کے پیش نظر تجارتی کمپنیوں پر ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ وہ الکٹرونک تحفظ سے متعلق خدمات کو مزید ترجیح دیں۔

ہم یہاں الکٹرونک جرائم کے بارے میں بعض اعداد و شمار پیش کررہے ہیں، جس کے ذریعے یہ اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ الکٹرونک جرائم کی سطح اس وقت کہاں پہنچ گئی ہے :

· ایک اندازے کے مطابق الکٹرونک حملوں کے نتیجے میں تجاری سیکٹروں کو سالانہ 400 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

· الکٹرونک سیکورٹی سے متعلق پیش آنے والے واقعات کی تعداد سالانہ 8 سے 9 کروڑ کے درمیان ہے۔

· تقریبا 20% چھوٹی اور درمیانی کمپنیاں مختلف الکٹرونک جرائم کا نشانہ بن چکی ہیں۔

· مائیکروسافٹ کمپنی کی مختلف خدمات پر حملے کی روزانہ 1 کروڑ سے زیادہ کوششیں کی جاتی ہیں۔ (یہ ایک واقعہ شمار کیا جاتا ہے)

· گزشتہ برس طبی دیکھ بھال کا سیکٹر ہیکروں کے حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنا۔

· الکٹرونک جرائم کے 40 فی صد شکار افراد کو کریڈٹ کارڈ سے متعلق جعل سازی کی مخلتف صورتوں کا سامنا رہا۔

· اوسطا ، انٹرنیٹ کے مجرموں کے حملوں کا انکشاف ہونے سے قبل ان عناصر کے پاس 200 روز ہوتے ہیں۔

· تقریبا 70% الکٹرونک حملوں کا انکشاف نہیں ہوتا اور ان کے کرنے والے نامعلوم ہی رہتے ہیں۔

· ابھی تک "123456" پاس ورڈ اُن صارفین میں سب سے زیادہ پھیلا ہوا ہے جن کو گزشتہ سال کے دوران الکٹرونک ہیکنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

· لوگوں کو شکار بنانے کے لیے مختلف سوشل میڈیا نیٹ ورکس، ہیکرز کے لیے آئیڈیل ہدف کی حیثیت رکھتے ہیں۔