.

امریکی تنقید کے تناظر میں روسی وزیردفاع کی شام آمد

سیرگی شویگو کی اچانک دمشق آمد پر بشارالاسد بھی حیران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے وزیردفاع سیرگی شویگو اچانک دورے پر شام پہنچے ہیں جہاں انہوں نے صدر بشارلاسد سے ملاقات کی ہے۔ دوسری جانب امریکا نے روسی فوج کی شامی اپوزیشن کے مراکز پر بمباری کی شدید مذمت کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روسی وزیر دفاع سیرگی شویگو کل ہفتے کو اچانک شام کے دارالحکومت دمشق پہنچے۔ صدر اسد نے روسی وزیر دفاع کا شاندار استقبال کیا اور ان کی آمد کو اپنے لیے ’خوش گوار حیرت‘ قرار دیا۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’سانا‘‘ کے مطابق روسی وزیر دفاع سے گفتگو میں بشارالاسد کا کہنا تھا کہ آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی، آپ کی اچانک آمد خوش گوار حیرت ہے۔

روسی ذرائع ابلاغ نے وزیر دفاع کی صدر بشار الاسد کے ساتھ ملاقات کی ایک ویڈٰیو نشر کی ہے جس میں انہیں آپس میں بات چیت کرتے دکھایا گیا ہے۔ بہ ظاہر ایسے لگتا ہے کہ دونوں رہ نما کسی اور شخصیت کی آمد کے بھی منتظر ہیں۔

اس موقع پر صدر بشار الاسد کا کہنا ہے کہ ''میں روسی آرمی چیف یا کسی دوسری شخصیت سے ملاقات کا منتظر تھا تا کہ ان کے ساتھ عسکری امور پر تبادلہ خیال کر سکوں''۔ انھوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیں۔

بعض ذرائع ابلاغ نے روسی وزیر دفاع کے اچانک دورہ دمشق اور بشار الاسد کے محل میں پہنچنے کو شامی صدر کے لیے توہین آمیز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے وی آئی پی شخصیت کا دورہ اس بات کا عکاس ہے روس کے نزدیک بشار الاسد کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

درایں اثناء امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے جنوبی شام میں روسی فوج کے جنگی طیاروں کی اپوزیشن پر بمباری پر کڑی تنقید کی ہے۔

وزارت دفاع کے ترجمان پیٹر کوک کا کہنا ہے کہ پینٹاگان کو شام میں داعش مخالف اور عالمی اتحادیوں کے حمایت یافتہ اپوزیشن گروپوں کو روسی جنگی طیاروں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے پر سخت تشویش ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا شام میں اعتدال پسند اپوزیشن کو روس کی جانب سے بمباری کا نشانہ بنائے جانے کا معاملہ سفارتی سطح پر ہونے والی بات چیت میں اٹھائے گا۔