.

ایران کے ساتھ "بوئنگ" کی ڈیل قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس میں ایران کو طیاروں کی فروخت کے معاہدوں کی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی پارلیمنٹ میں دو نمایاں ریپبلکن ارکان نے کہا ہے کہ بوئنگ کمپنی کی جانب سے ایران کو طیاروں کی فروخت کی ڈیل " امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے"۔

ایک معروف غیرملکی نیوز ایجنسی کے مطابق دونوں ارکان پارلیمنٹ جب ہینسارلنگ اور پیٹر روسکم نے جمعے کے روز بوئنگ کمپنی کے نام ایک خط میں متنبہ کیا ہے کہ "ایرانی نظام کو مسلح کرنے میں امریکی کمپنیوں کا ہاتھ نہیں ہونا چاہیے"۔

بوئنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کو بھیجے گئے خط میں دونوں ارکان پارلیمنٹ نے مذاکرات کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے "وضاحتیں" طلب کی ہیں۔

بوئنگ کمپنی سے پوچھا گیا ہے کہ کیا کمپنی یہ ضمانت دے سکتی ہے کہ ایرانی حکومت مسافر طیاروں کو کارگو طیاروں میں تبدیل نہیں کرے گی اور ایران کی جانب سے نیوکلیئر معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں کیا کمپنی طیاروں کو واپس لے لے گی۔

ہینسارلنگ امریکی پارلیمنٹ میں مالیاتی خدمات کی کمیٹی کے سربراہ ہیں جب کہ روسکم پارلیمنٹ میں ٹیکس اینڈ ریونیو کی نگراںی کرنے والی متعلقہ ذیلی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔

گزشتہ مئی میں امریکی کانگریس میں قانون سازی کے ارکان نے دو کمپنیوں "بوئنگ" اور "ایئربس" پر زور دیا تھا کہ وہ ایرانی نظام کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنے سے دور رہیں کیوں کہ وہ "دنیا بھر میں دہشت گردی کا مرکزی ذریعہ ہے"۔

امریکی کانگریس کے 3 ارکان نے "بوئنگ" کمپنی کے ڈائریکٹرز کو بلا کر ان پر زور دیا تھا کہ ایرانی منڈیوں میں دوبارہ داخل ہونے کی کوششوں کو روک دیا جائے اور ایرانی نظام کو طیارے اور ان کے فاضل پرزہ جات فروخت نہ کیے جائیں۔

ریپبلکن ارکان پارلیمنٹ نے اپنے خط میں کہا کہ " ہم دونوں کمپنیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسی ریاست کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے گہرے اخلاقی تصورات پر غور کرلیں، جو بار ہا یہ ثابت کرچکی ہے کہ وہ اعتماد کے قابل نہیں"۔

امریکی قانون سازوں نے زور دیا کہ بوئنگ اور دیگر کمپنیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ "امریکیوں کی سلامتی اور امن کو اپنے مفادات میں سرفہرست رکھیں"۔

ایران نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ بوئنگ کمپنی کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچ گیا ہے جس کے تحت ایران کو طیارے فراہم کیے جائیں گے۔ اس طرح نیوکلیئر معاہدے کے نتیجے میں پابندیوں میں تخفیف کے بعد، کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ ایران کے فضائی بیڑے میں امریکی طیاروں کی شمولیت کا دروازہ کھلے گا۔ امریکی کمپنی بوئنگ نے ڈیل کے حوالے سے اتفاق رائے ہوجانے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

کمپنی نے مغرب اور مشرق وسطی کے ذرائع کے ان بیانات پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا جن میں بتایا گیا ہے کہ ایران اور بوئنگ کمپنی کے درمیان ابتدائی مفاہمت ہوگئی ہے جس کے تحت ایران 100 سے زیادہ مسافر طیارے حاصل کرے گا۔

ایران میں سڑکوں اور منصوبہ بندی کے وزیر عباس آخوندی نے اعلان کیا تھا کہ نئے طیاروں کی خرید کے سلسلے میں ان کے ملک کا بوئنگ کمپنی کے ساتھ معاہدہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے درمیانی عناصر کے ساتھ معاملہ کرنے کو مسترد کردیا ہے اور امریکی کمپنیوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بروکروں کے ساتھ معاملات نہ کریں۔ اس کے نتیجے میں 5 سے 7 ارب ڈالر کی ڈیل طے پائی ہے۔

آخوندی نے باور کرایا کہ ان کے ملک کے فضائی بیڑے کو درمیانی اور دور دراز مسافتوں کے لیے 400 کے قریب طیاروں کی ضرورت ہے۔ ان کے علاوہ داخلی ہوا بازی کے لیے بھی 100 طیاروں کی ضرورت ہے۔ آخوندی کے مطابق ان کی وزارت نے اس مقصد کے لیے فی الوقت 50 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں۔