.

ایران شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل ہوسکتا ہے:پوتن

جوہری تنازع کے حل کے بعد ایران کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ چین اور ماسکو کی قیادت میں قائم علاقائی اقتصادی و سیکیورٹی تعاون کے لیے قائم کردہ شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی شمولیت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

وسطی ایشیائی ریاست ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹرپوتن کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایران کے جوہری پروگرام کے تنازع کے حل اور اقوام متحدہ کی تہران پرعاید پابندیاں اٹھنے کے بعد ایران کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کی راہ کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی ہے۔