.

مسلمانوں پر قدغنیں عاید کرکے ٹرمپ کیا چاہتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں قتل یا دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کے بعد چاہے اس واقعے کا تعلق کسی بھی گروپ سے ہو مگر سب سے پہلے مسلمانوں ہی کی شامت آتی ہے۔ بدقسمتی سے امریکا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے اظہار میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے سیاست دانوں کے بیانات نے بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ سان برنارڈینوں میں قتل کی واردات ہو یا اورلینڈو میں جنس پرستوں کا قتل عام ہو ڈونلڈ ٹرمپ نے بلا سوچے سمجھے مسلمانوں پر پابندیاں عاید کرنے کا مطالبہ کیا۔

اب کی بار تو انہوں نے کچھ زیادہ ہی مطالبات کر ڈالے ہیں۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ صرف مسلمانوں کو نفرت کا نشانہ نہیں بنا رہے ہیں بلکہ انہوں نے رنگ، نسل اور قومیت کی بنیاد پر بھی لوگوں کی درجہ بندی اور ان کی ’پروفائیلنگ‘ کا مطالبہ داغ دیا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نسلی امتیازکا مطالبہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ کسی بھی مسلمان کو محض شبے کی بنیاد پر ذلت آمیز تفتیش کے کئی مراحل سے گذرنا پڑ سکتا ہے۔ کسی بھی مشتبہ مسلمان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

امریکا میں اسلامی تعلقات کونسل کے ترجمان ایھان کاجری کا کہنا ہے کہ کسی ایک قوم یا طبقے کے خلاف اس طرح کا نسلی امتیاز امریکی جمہوری دستور کو دیوار پر دے مارنے کے مترادف ہے۔

حال ہی میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں سے اتنے متنفر کیوں ہیں؟ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کو مشیر ہی ایسے ملے ہیں جنہوں نے موصوف کے دل میں مسلمانوں سے نفرت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیران کی اکثریت کسی نہ کسی طرح نائن الیون کے واقعات سے بھی متاثر رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو لا محالہ دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان مشیران میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سابق انچارج بھی سر فہرست ہیں۔ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سابق انچارج کا ایک دوست نائن الیون کے حملوں میں ہلاک ہوگیا۔ نیویارک میں تباہ ہونے والے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں دوست کی ہلاکت کے بعد ٹرمپ کے مشیر نے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردی۔ وہ مسلمانوں کو کھلم کھلا دہشت گرد قرار دیتے اور امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیران کے لب ولہجے کے برخلاف ری پبلیکن پارٹی پالیسی مسلمانوں کے خلاف ایسی ہیں جیسا کہ ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کی سوچ ہے کیونکہ ری پبلیکن کی طرف سے ٹرمپ کےبیانات پر کڑی نکتہ چینی کی جاتی رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کےبیانات نے امریکا میں مقیم مسلمانوں کو سخت خوف زدہ کیا ہے۔ نائن الیون واقعات کےبعد مسلمانوں کو یہ ثابت کرنا پڑ رہا تھا کہ وہ امریکی سماجی دھارے کا حصہ ہیں۔ اس واقعے کے پندرہ سال بعد آج ایک بار پھر مسلمان اسی مشکل سے دوچار ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مساجد کی بھی نگرانی کا مطالبہ کیا ہے اور اللہ کے گھروں کو بھی مشتبہ مقامات قرار دیا ہے۔